خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 533
$2004 533 خطبات مسرور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والی باتوں کے سنانے کا شغل رہے گا۔لیکن جلسوں پر آنے والے صرف میلے کی صورت میں اکٹھے ہو جانے کا تصور لے کر نہ یہاں آئیں۔جب یہاں آئیں تو غور سے ساری کارروائی کوسننا چاہئے۔اگر اس بارے میں سستی کرتے ہیں تو پھر تو یہاں آکر بیٹھنا اور تقریریں سننا کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتا۔اس لئے باہر سے آنے والے بھی جو خرچ کر کے آئے ہیں اور یہاں کے رہنے والے بھی جلسے کی تقریروں کے دوران پورا پورا خیال رکھیں اور بڑے غور اور دلجمعی سے جلسے کی کارروائی کوسنیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”سب کو متوجہ ہو کر سننا چاہئے۔پورے غور اور فکر کے ساتھ سنو کیونکہ یہ معاملہ ایمان کا ہے۔اس میں سستی ،غفلت اور عدم توجہ بہت برے نتائج پیدا کرتی ہے۔جولوگ ایمان میں غفلت سے کام لیتے ہیں اور جب ان کو مخاطب کر کے کچھ بیان کیا جائے تو غور سے اس کو نہیں سنتے ، ان کو بولنے والے کے بیان سے خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ درجے کا مفید اور مؤثر کیوں نہ ہو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ کان رکھتے ہیں مگر سنتے نہیں اور دل رکھتے ہیں پر سمجھتے نہیں۔پس یا درکھو کہ جو کچھ بیان کیا جاوے اسے توجہ اور بڑے غور سے سنو۔کیونکہ جو توجہ سے نہیں سنتناوہ خواہ عرصہ دراز تک فائدہ رساں وجود کی صحبت میں رہے اسے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔(الحكم ۱۰ مارچ ۱۹۰۲ء) دیکھیں کس قدر ناراضگی کا اظہار فرمایا ان لوگوں کے لئے جو جلسہ پر آ کر پھر جلسہ کی کارروائی کو توجہ سے نہیں سنتے۔تو ایسے لوگوں کی حالت ایسی ہے کہ باوجود کان اور دل رکھنے کے نہ سننے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ رحم کرے اور ہر احمدی کو اس سے بچائے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” سب صاحبان متوجہ ہو کر سنیں۔میں اپنی جماعت اور خود اپنی ذات اور اپنے نفس کے لئے یہی چاہتا اور پسند کرتا ہوں کہ ظاہری قیل وقال جو لیکچروں میں ہوتی ہے