خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 529
529 $2004 خطبات مسرور میں سمجھوں گا کہ تم نے مجھے حقیقت میں پہچان لیا اور جس مقصد کے لئے تم نے بیعت کی تھی اس کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔پہلی بات تو یہ یا درکھو کہ میری بیعت میں داخل ہو کر تمہارے اندر سے، تمہارے دل میں سے دنیا کی محبت نکل جانی چاہئے۔اگر یہ نہ نکال سکو تو تمہارا بیعت کرنے کا مقصد پورا نہیں ہو۔اگر دنیا کے کاروبار تمہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے روکتے ہیں۔تمہاری ملازمتیں ،تمہاری تجارتیں حقوق اللہ کی ادائیگی میں روک ہیں۔تمہارے کاروبار، تمہاری انائیں، تمہاری دنیاوی عزتیں، شہر تیں، تمہارے پر جو اللہ کی مخلوق کے حقوق ہیں ان کی راہ میں روک بن رہی ہیں تو پھر تمہارا میری جماعت میں شامل ہونے کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔پھر اللہ تعالیٰ کی محبت، حقوق اللہ کی ادائیگی اور حقوق العباد کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ایک اہم تبدیلی جو تمہیں اپنے اندر پیدا کرنی ہو گی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے، آپ سے محبت دنیا کی تمام محبتوں سے بڑھ کر ہونی چاہئے کیونکہ اب اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے تمام راستے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں فنا ہونے سے ہی ملیں گے، آپ کے پیچھے چلنے سے ہی ملیں گے، آپ کے احکام پر عمل کرنے سے ہی ملیں گے، آپ کی سنت پر عمل کرنے سے ہی ملیں گے۔اس لئے اس محبت کو اپنے پر غالب کرو کیونکہ فرمایا کہ میں تو خود اس محبوب کا عاشق ہوں۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ تم میری بیعت میں شامل ہونے والے شمار ہو اور پھر میرے پیارے سے تمہیں محبت نہ ہو، وہ محبت نہ ہو جو مجھے ہے یا جس طرح مجھے ہے۔پھر فرمایا کہ دنیا کی اس چکا چوند سے تمہیں کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔تمہارے یہ مقاصد ہیں اور ان کو پورا کرنے کے لئے اللہ کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرو۔اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرو۔اللہ کی مخلوق کے حقوق ادا کر و اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی ادائیگی میں اس قدر کھوئے جاؤ کہ تمہیں یہ احساس ہو کہ یہ سب کچھ تم اللہ اور اس کے