خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 512 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 512

512 $2004 خطبات مسرور ہے اور اس سے سیر نہیں ہو سکتے تو میں پہلے لوں اور اس پہ دعا پڑھوں تو اللہ تعالی برکت ڈال دے گا۔اس لئے یہ کوئی عام اصول نہیں ہے بلکہ مہمانوں کی جب خدمت کی جائے تو پہلے مہمانوں کو کھانے کا موقع دینا چاہئے اور اس کے بعد پھر بچا کھچا آپ کھانا چاہئے۔ایک روایت ہے حضرت عبداللہ بن سلام کہتے ہیں جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں قدم رنجہ فرمایا تو لوگ اثر دھام کر کے آپ کے گرد جمع ہو گئے ، بہت سارا ہجوم کر کے رش کر کے آ گئے۔کہتے ہیں میں بھی ان میں شامل تھا جو دوڑ دوڑ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔جب آپ کا چہرہ خوب مجھ پر روشن ہو گیا تو میں نے جان لیا کہ یہ منہ جھوٹے کا منہ نہیں ہے اور سب سے پہلی بات جو میں نے آپ کو کہتے ہوئے سنا وہ یہ تھی کہ سلام کو رواج دو، کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کیا کرو اور اس وقت نماز پڑھو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔(مسند احمد بن حنبل۔مسند باقى الانصار جلد ۵ صفحه (٤٥١ فرمایا کہ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے ہوئے سلام کو رواج دو۔سلام کے رواج دینے کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ ہر ایک سے محبت سے پیار سے پیش آؤ تبھی سلام کرنے کا بھی حق ادا ہوتا ہے۔پھر یہ ہے کہ ایک تو ضرورتمندوں کو بھوکوں کو کھانا کھلاؤ۔دوسرے جب تمہارے پاس جب کوئی مہمان آئے تو مہمان نوازی کے اصول کے تحت اس کی کوئی خاطر تواضع کرو۔بعض دفعہ بعض دُور پار کے رشتہ دار یا کسی حوالے سے واقف لوگ آ جاتے ہیں یہ سمجھ کر کہ فلاں میرے عزیز کا کوئی واقف کار ہے اس سے مل لیں۔جب ایسے لوگ آئیں تو ان سے بھی اچھے طریقے سے ملنا چاہئے ، یہ نہ ہو کہ بیچارے خرچ کر کے جب آپ کے پاس پہنچیں تو بے رخی سے کہہ دو نہ تو میں آپ کو جانتا ہوں ، نہ اس واقف کار کو جانتا ہوں اور السلام علیکم کیا اور گھر کا دروازہ بند کر دیا۔اگر کوئی دھو کے باز ہواس کا تو چہرے سے پتہ چل جاتا ہے۔احمدی کی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے شکل پہچانی جاتی ہے کہ