خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 505 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 505

$2004 505 خطبات مسرور تعداد تھی۔اور پھر نائیجیریا میں صرف دو تین گھنٹے کے لئے ہی 30-31 ہزار احمدی مرد و خواتین اکٹھے ہو گئے تھے۔تو اس لحاظ سے دنیا کے مختلف ممالک میں جلسے کی برکات سمیٹنے اور اس سے فیضیاب ہونے کے لئے احمدی اکٹھے ہوتے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ پاکستان سے ہجرت کی وجہ سے جو خلیفہ وقت کو کرنی پڑی ، انگلستان کے سالانہ جلسہ کو کم و بیش اس کو وہی حیثیت حاصل ہوگئی جو مرکزی جلسے کی ہوتی ہے۔کیونکہ برطانیہ کا جلسہ ہی وہ واحد جلسہ ہے جس میں گزشتہ 20-21 سال سے خلیفہ وقت کی باقاعدہ شمولیت ہورہی ہے۔اور ماشاء اللہ انگلستان کی جماعت نے اس ذمہ داری کو خوب نبھایا ہے۔اور آہستہ آہستہ جلسے کے انتظامات کو اپنی لائنوں پر جس طرح مرکز میں ہوتا تھا یہاں بھی چلا دیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو آئندہ بھی توفیق دیتا رہے۔پہلے تو یہاں کے جلسے بڑے مختصر سے ہوتے تھے،اتنے بڑے اور وسیع انتظامات کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔لیکن بہر حال اب تو کافی وسیع جلسے ہونے لگ گئے ہیں۔کیونکہ پہلے تو پوری طرح کا رکنان کو انکل سے کام کرنا بھی نہیں آتا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں آہستہ آہستہ تمام انتظامات بہتر ہونے شروع ہوئے اور اب کافی ترقی ہو چکی ہے۔اور پھر گزشتہ سال بھی انتظامیہ نے اپنی بہت سی کمزوریوں کی اصلاح کی اور اس سال بھی کوشش کر رہے ہیں اور بعض باتوں کا اگر میں نے ضمناً بھی ذکر کیا ہے تو امیر صاحب نے فوراً اس کے مطابق اصلاح کی کوشش کی ہے۔تو اللہ تعالیٰ جلسے کے تمام انتظامات میں برکت ڈالے۔میرے نزدیک جو بنیادی حیثیت ان انتظامات میں ہے وہ مہمان نوازی کی ہے۔اگر مہمان نوازی کا نظام ٹھیک ہو جائے تو پھر جلسے کے باقی انتظامات کی حیثیت معمولی رہ جاتی ہے۔کیونکہ باقی انتظامات میں بھی افراتفری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کھانے کے انتظام میں گڑ بڑ ہو جائے یا اسی طرح جو دوسرے مہمان نوازی سے متعلقہ انتظامات ہیں ان میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے یا خاطر خواہ انتظام نہ ہو تو اس لحاظ سے یہ مہمان نوازی کا شعبہ بہت اہم شعبہ ہے۔اس لئے ہر خدمت کرنے والے کارکن کو یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ اس نے ہمیشہ جہاں اپنی ڈیوٹی کو صحیح طرح انجام دینا ہے وہاں حسن اخلاق کا رویہ بھی قائم رکھنا ہے اور ہمیشہ مہمانوں سے بڑی نرمی سے پیش آنا ہے۔قرآن کریم نے ہمیں یہ سنہری اصول بتا دیا کہ یہ مہمان نوازی، خدمت کا جذبہ اور جوش