خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 498
$2004 498 خطبات مسرور چاہئے۔یا پھر جو ذمہ داریاں ہیں ان کو پورا ادا کرنا چاہئے۔وہ قواعد جن کی پابندی ضروری ہے اور جماعت نے مقرر کئے ہیں وہ کرنے چاہئیں۔اگر قواعد پہ عمل نہیں کیا پھر شکوے بھی نہ کریں۔یہ بھی اس مجلس کا حق ہے کہ اگر اٹھایا جائے تو اٹھ جائیں۔مجلس میں جگہ دینے کے بارے میں آنحضرت یہ کس قدر خیال فرماتے تھے۔اس کا اظہار یک روایت سے ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص حاضر ہوا ، حضور رسول علیہ السلام اسے جگہ دینے کے لئے اپنی جگہ سے کچھ ہٹ گئے۔وہ شخص کہنے لگا حضور جگہ بہت ہے آپ الله کیوں تکلیف فرماتے ہیں۔اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ایک مسلمان کا حق ہے کہ اس کے لئے اس صلى الله کا بھائی سمٹ کر بیٹھے اور اسے جگہ دے۔(بیھقی فی شعب الایمان۔مشکوۃ باب القيام) تو دیکھیں جب ہمارے آقا و مطاع اپنے عمل سے یہ دکھا رہے ہیں تو ہمیں کس قدران باتوں پر عمل کرنا چاہئے بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مجلس میں آجائے تو بعض لوگ اور زیادہ چوڑے ہو کے اور پھیل کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہمارے بیٹھنے میں تنگی نہ ہو۔جلسے کے دنوں میں خاص طور پہ جو مہمان آرہے ہیں اور یہاں والے بھی سن رہے ہیں، انشاء اللہ بہت سارے لوگ ہوں گے اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ بعض دفعہ جگہ کی تنگی ہو جاتی ہے۔انتظامیہ کے اندازے بالکل ختم ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں دوسروں کو ضرور جگہ دینی چاہئے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب کوئی آدمی جلسہ گاہ یا مسجد وغیرہ کے لئے اپنی جگہ سے اٹھے تو واپس آنے پر وہ اس جگہ کا زیادہ حق دار ہوتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب السلام باب اذا قام من مجلسه ثم عاد فهو احق به) تو بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے، وہ اس تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ فلاں جگہ اگر خالی ہو تو میں جا کر بیٹھوں یا بعض دفعہ کسی مجلس میں کسی کی کوئی پسندیدہ شخصیت یا کوئی دوست وغیرہ ہو تو اس کے اردگر دا گر جگہ نہیں ہوتی تو اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے بھی بڑی خواہش ہوتی ہے کہ کسی