خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 497
497 $2004 خطبات مسرور کی جگہ سے اس غرض سے نہ اٹھائے کہ تا وہ خود اس جگہ بیٹھے۔وسعت قلبی سے کام لو اور کھل کر بیٹھو۔چنانچہ ابن عمر کا طریق تھا کہ جب کوئی آدمی آپ کو جگہ دینے کے لئے اپنی جگہ سے اٹھتا تو آپ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے۔(بخاری کتاب الاستیذان باب اذا قيل لكم تفسحوا في المجالس) خود تو ہر مومن کو یہی چاہئے کہ دوسرے کا خیال رکھے اور اپنے بھائی کو بیٹھنے کے لئے جگہ دے لیکن کسی دوسرے آنے والے کا حق نہیں بنتا کہ زبردستی کسی کو اٹھائے کہ یہ جگہ میرے لئے خالی کرو۔یہ بھی مجلس کے آداب کے خلاف ہے اور اس بیٹھنے والے کے حق کے خلاف ہے سوائے اس کے کہ جہاں اجازت ہے، ایسی مجالس میں جہاں مجبوری ہو اٹھانے کے لئے کہا جائے۔وہ تو قرآن شریف میں بھی حکم آیا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ”اگر مجلسوں میں تمہیں کہا جائے کہ کشادہ ہو کر بیٹھو یعنی دوسروں کو جگہ دو تو جلد جگہ کشادہ کر دوتا دوسرے بیٹھیں اور کہا جائے کہ تم اٹھ جاؤ تو بغیر چون و چرا کے اٹھ جاؤ“۔(اسلامی اصول کی فلاسفی - روحانی خزائن جلد نمبر ١٠ صفحه ٣٦٦) تو جہاں قرآن کریم میں یہ کشادگی کا حکم ہے ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ اگر مجلس سے اٹھایا جائے اور انتظامیہ اگر کہے کسی وجہ سے کہ یہاں سے بعض لوگ چلے جائیں ، اٹھ جائیں، تو اٹھ جایا کرو۔کیونکہ بعض مجالس مخصوص ہوتی ہیں ان میں ہر ایک کو بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔تو یہاں بھی ہر احمدی کو کھلے دل کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔بعض دفعہ شکایات آجاتی ہیں کہ فلاں عہدیدار نے فلاں مجلس میں مجھے اٹھا دیا یا میرے فلاں بزرگ کو اٹھا دیا۔تو ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر شکوہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ نظام ہے اس کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔مومن کا شیوہ نہیں ہے کہ ایسی باتوں کا شکوہ کرے۔پھر بعض مجالس ایسی ہیں مثلاً انتخاب وغیرہ میں بھی بعض لوگ حسب قواعد نہیں بیٹھ سکتے ، ان میں بعض کمیاں ہوتی ہیں تو اس پر شکوے بھی نہیں کرنے چاہئیں۔بڑی خاموشی سے چلے جانا