خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 495
495 خطبات مسرور شیطان کی طرف سے آتی ہے۔یعنی ستی کا موجب ہوتی ہے اور وہ اس کے آنے پر ہنستا ہے۔(ترمذی ابواب الاستيذان والادب باب ماجاء ان الله۔$2004 يحب العطاس ويكره التثاوب) تو بعض لوگ مجلس میں بیٹھے ہوتے ہیں ، جمائی آ گئی ، دبانا تو کیا منہ پر ہاتھ بھی نہیں رکھتے اور پھر ساتھ بازو پھیلا کے انگڑائی بھی ایسی لیتے ہیں کہ بعض دفعہ باز وجو پھیلتا ہے تو ساتھ والے شخص کے کہیں نہ کہیں ناک منہ پہ لگ جاتا ہے اور بچے بڑوں کی یہ عادت دیکھتے ہیں تو بچے بھی (وقف نو کلاس میں میں نے ذکر بھی کیا تھا) اس کا خیال نہیں رکھتے۔ہمیشہ منہ پہ ہاتھ رکھیں اور ضروری نہیں کہ ساتھ انگڑائی بھی لی جائے۔اور بعض لوگ تو میں نے دیکھا ہے مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے ایسی زور سے جمائی لیتے ہیں تو آوازیں نکالتے ہیں۔یہاں تو ہاہا ہے لیکن وہ تو ہائے وائے کی آوازیں نکل رہی ہوتی ہیں۔بعض دفعہ شک پڑ جاتا ہے کہ کسی کو کچھ ہو نہ گیا ہو۔تو نماز پڑھتے وقت کم از کم احتیاط کرنی چاہئے۔مجالس کے آداب اور اس کے حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ جب مجلس میں بیٹھیں تو مجلس میں اگر بات کر رہے ہیں تو اس طرح کریں کہ سب سن رہے ہوں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دو افراد اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر آپس میں کھسر پھسر نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا تیسرے شخص کو رنجیدہ کر دے گا۔(ابو داؤد کتاب الادب باب في التناجي) تو بعض دفعہ یہ رنجیدگی بعض طبائع کی وجہ سے لڑائیوں اور جھگڑوں کی وجہ بن جاتی ہے۔بدظنیوں کی وجہ بن جاتی ہے تو ہمیشہ مجلسوں میں اس طرح کرنے سے بچنا چاہئے اور اگر کسی سے انتہائی ضروری بات کرنی بھی ہے تو جو ساتھ بیٹھا ہوا شخص ہے اس سے اجازت لے کر، کہ میں فلاں شخص سے فلاں ضروری بات کرنا چاہتا ہوں ایک طرف لے جاکے کرنی چاہئے تاکہ کسی بھی قسم کی بدظنی پیدا نہ ہو کیونکہ شیطان جو ہے ہر وقت اس تاک میں ہے کہ کسی طرح فساد پیدا کرے۔ایک روایت میں آتا ہے ایسے لوگوں کے بارے میں جو رستوں پر مجلسیں جما کے بیٹھ جاتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ رستوں پر بیٹھنے سے بچو، اس پر صحابہ نے عرض کی کہ ہمیں رستوں پر مجلسیں لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ، وہاں بیٹھ کر ہم باتیں کرتے ہیں۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم