خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 485 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 485

$2004 485 مسرور شیطان کیونکہ مومنوں پر مختلف طریقوں سے حملہ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔اس لئے جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں فرمایا کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو جب تم باہم خفیہ مشورے کرو تو گناہ سرکشی اور رسول کی نافرمانی پر مبنی مشورے نہ کیا کر وہاں نیکی اور تقویٰ کے بارے میں مشورے کیا کرو اور اللہ سے ڈرو جس کے حضور تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔دیکھیں اس میں مخاطب مومنوں کو کیا گیا ہے کہ انسان اپنے مسائل کے حل کے لئے ایک دوسرے سے مشورے لیتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔پھر اپنی رائے میں مضبوطی پیدا کرنے کے لئے اور لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں تو فرمایا کہ اس صورت میں یہ ہمیشہ یا درکھو کہ تمہارے مشورے چاہے تمہارے حقوق کی حفاظت کے لئے ہوں یا تمہارے خیال میں نظام میں درستی کے لئے ، ان میں کبھی گناہ ، سرکشی اور رسول کی نافرمانی کرنے والے مشورے نہ ہوں، جیسا کہ میں پہلے بتا آیا ہوں کہ شیطان اس کوشش میں ہوتا ہے کہ کوئی فساد پیدا کرے اس لئے بعض دفعہ بعض لوگ اس لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور آپس میں بیٹھ کر مشورے شروع ہو جاتے ہیں کہ جماعت کا یہ کام اس طرح نہیں ہونا چاہئے جس طرح امیر کہ رہا ہے یا مرکزی عاملہ کہہ رہی ہے یا بعض دفعہ مرکز کہہ رہا ہے بلکہ اس طرح ہونا چاہئے جس طرح ہم کہہ رہے ہیں کیونکہ ہم موقع پر موجود ہیں، ان لوگوں کو کیا پتہ کہ یہ کام کس طرح کرنا ہے تو یہ جومشورے ہیں، یہ جو مجلسیں ہیں جہاں اس قسم کی باتیں ہو رہی ہیں چاہے تم بد نیتی سے نہیں بھی کر رہے تو تب بھی یہ خدا اور رسول کی نافرمانی کے زمرے میں آئیں گی اس لئے کہ جب نظام نے تمہیں واضح طور پر ایک لائن دے دی کہ ان پر چل کر کام کرنا ہے تو تمہارا فرض بنتا ہے کہ ان پر چل کر ہی کام کرو اس کے بارے میں اب علیحدہ بیٹھ کر چند آدمیوں کو لے کر مجلسیں بنا کر باتیں کرنے اور امیر کے احکامات سے روگردانی کرنے کا اب کوئی حق نہیں پہنچتا۔اگر نقص دیکھو تو امیر کو یا متعلقہ شعبہ کو یا خلیفہ وقت کو اطلاع کر دو اور بس۔اس کے بعد ایک عام احمدی کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔پھر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ