خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 479 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 479

$2004 479 مسرور 18 ، 20 ہزار آدمی جو تھا وہ قریباً 20، 25 منٹ میں کھانا لے کر فارغ ہو جا تا تھا۔اور انہوں پہلے ہی یہ انتظام کیا ہوتا تھا کہ چھوٹے پیک لے کے ان میں کھانا ڈال کے رکھتے ہیں لیکن ہر آدمی کے لحاظ سے مناسب مقدار میں یعنی ایک نارمل آدمی جتنا کھا سکتا ہے اتنا رکھ دیتے ہیں۔اور اس کے ڈبے پڑے ہوتے ہیں۔ہر کوئی آتا ہے اور اپنا پیک اٹھا کے لے جاتا ہے۔اور اگر کسی کو زائد بھوک ہو تو زائد لے گیا۔اس سے یہ ہے کہ بڑے آرام سے، بڑے تھوڑے وقت میں کھانا کھایا جاتا ہے اور لوگ بھگت جاتے ہیں۔اس دفعہ وہاں اس جلسہ میں تقریباً 1 3 ملکوں کی نمائندگی ہوگئی اور امریکہ سے بھی تقریباً چار ہزار کے قریب احمدی مردوزن ، بچے وغیرہ وہاں آئے ہوئے تھے اور امریکہ والے کہتے ہیں کہ ہماری جو تعداد جلسے پر ہوتی ہے شاید اس سے سو دو سو زائد ہی ہوں جو کینیڈا آگئے تھے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی طرف سے بھی بہت بڑی حاضری تھی۔بڑے اخلاص و وفا کا تعلق دکھایا اور وہاں شامل ہوئے۔تو بہر حال انتظامی لحاظ سے بھی بہت اچھا انتظام تھا۔اللہ تعالیٰ تمام کارکنان کو اور انتظامیہ کو جزا دے جنہوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کی۔جلسہ گاہ میں انتظامات اور ڈسپلن بھی ماشاء اللہ بہت اچھا تھا۔تمام لوگ جو بیٹھے ہوئے تھے اور جلسہ سنتے تھے اور بڑی سنجیدگی سے ماشاء اللہ سب نے جلسہ سنا اور یہی مقصد ہوتا ہے ان جلسوں پر آنے کا۔اللہ تعالیٰ ان سب کو بھی جزا دے اور انہیں بھی۔اور دنیا میں ہر جگہ ہر احمدی کو احمدیت کا جھنڈا بلند رکھنے کی توفیق دے۔بہت سے غیر جن میں مختلف نگاہ سے تعلق رکھنے والے دوست بھی تھے ان کی تعداد شاید ڈیڑھ ہزار کے قریب تھی ، ان کا یہ اندازہ تھا جو انہوں نے مجھے بتایا۔پھر ان میں اعلیٰ سرکاری افسران بھی تھے اور بعض وزراء بھی تھے۔اور تمام لوگ جو جلسہ کے بعد مجھے ملے ، انہوں نے بر ملا اس بات کا اعتراف کیا اور تعریف کی کہ ہم نے کبھی زندگی میں اتنے بڑے مجمع کو اتنا منظم نہیں دیکھا۔یہ پہلی دفعہ آئے تھے لیکن بار بار اس بات کا ذکر کرتے تھے۔ایک وزیر نے تو یہ بھی کہا کہ دو باتوں نے مجھے بڑا حیران