خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 472
$2004 472 خطبات مسرور رہے گی، کوئی بھی کام انسان کرنے لگے گا تو کسی بھی غلط کام کو کرنے سے پہلے کئی سوال اٹھیں گے۔اس۔اگر نیکی ہے تو یقینا آپ اس کام کو چھوڑ دیں گے اور اگر شیطان غالب آ گیا تو پھر اچھے برے کی تمیز جیسا کہ میں نے کہا نہیں رہتی۔پھر آپ کرتے چلے جائیں گے۔پھر ایک اور روایت آئی ہے حضرت وابصہ بن معبد بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا : ” کیا تم نیکی کے متعلق پوچھنے آئے ہو۔میں نے عرض کی ہاں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا کہ اپنے دل سے پوچھ۔نیکی وہ ہے جس پر تیرا دل اور تیرا جی مطمئن ہو۔اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تیرے لئے اضطراب کا موجب بنے اگر چہ لوگ تجھے اس کے جواز کا فتویٰ دیں اور اسے درست کہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد نمبر 4 صفحه 227-228 مطبوعه (بيروت تو جیسا کہ میں نے پہلے کہا اس حدیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ پہلے تصدیق کر لینی چاہئے اپنے دل سے پوچھ لینا چاہئے ، غور کرنا چاہئے۔بہت سے ایسے مسائل ہیں، بہت سی ایسی برائیاں ہیں۔جن کا انسان اگر اپنے دل سے فتوی لے، اپنے سامنے ان کو رکھے، خالی الذہن ہو کر فتویٰ لے تو خود ہی بہت سی برائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔کسی اور کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ایک روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ” نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے نا پسند ہو کہ لوگوں کو اس کا پتہ چلے اور تیری اس کمزوری سے وہ واقف ہوں۔(مسلم کتاب البر والصلة باب تفسير البرو الاثم) تو اس حدیث میں بھی یہی تلقین ہے کہ اپنا محاسبہ کرو، اپنے دل سے پوچھو۔اور بہت سی باتیں تو فورا سامنے آ جاتی ہیں، بہت سی برائیوں سے انسان صرف یہ سوچ کر ہی بچ جاتا ہے کہ اگر یہ لوگوں کو پتہ چل گیا تو لوگ کیا کہیں گے میری بدنامی ہوگی ، میرے گھر والوں کی بدنامی ہوگی۔میرے خاندان کی بدنامی ہوگی ، تو بات وہی ہے کہ اگر دل میں نیکی ہے تو اپنے دل سے زیادہ اچھا فتویٰ کہیں