خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 468 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 468

$2004 468 خطبات مسرور بسکٹ اور ڈبل روٹی بنانے کا ایک کارخانہ انگریزوں کا تھا وہ ایک مسلمان تاجر نے تقریباً ڈیڑھ لاکھ میں خرید لیا۔جب اس نے حساب و کتاب کی کتابوں کو پڑتال کر کے دیکھا تو معلوم ہوا کہ سور کی چربی اس کارخانے میں خریدی جاتی رہی ہے۔دریافت پر کارخانے والوں نے بتایا کہ ہم اسے سکٹ وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر یہ چیزیں لذیذ نہیں ہوتیں اور ولایت میں بھی یہ چربی ان چیزوں میں ڈالی جاتی ہے۔اس واقعہ کے سننے سے ناظرین کو معلوم ہوسکتا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا خیال کس قدر تقوی اور باریک بینی پر تھا۔لیکن چونکہ ہم میں سے بعض ایسے بھی تھے جن کا اکثر سفر کا اتفاق ہوا ہے اور بعض بھائی افریقہ وغیرہ دور دراز امصار و بلا د میں اب تک موجود ہیں جن کو اس قسم کے دودھ اور بسکٹ وغیرہ کی ضرورت پیش آسکتی ہے اس لئے ان کو بھی مد نظر رکھ کر دوبارہ اس مسئلہ کی نسبت دریافت کیا گیا۔(حضرت مسیح موعودؓ سے دوبارہ پوچھا گیا) نیز اہل ہنود کے کھانے کی نسبت عرض کیا گیا کہ یہ لوگ بھی اشیاء کو بہت غلیظ رکھتے ہیں اور ان کی کڑاھیوں کو اکثر کتے چاٹ جاتے ہیں اس پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: ”ہمارے نزدیک نصاری کا وہ طعام حلال ہے جس میں شبہ نہ ہو ( یعنی عیسائیوں کا وہ کھانا حلال ہے جس میں شبہ نہ ہو اور از روئے قرآن مجید وہ حرام نہ ہو۔ورنہ اس کے یہی معنے ہوں گے کہ بعض اشیاء کو حرام جان کر گھر میں تو نہ کھایا مگر باہر نصاری کے ہاتھ سے کھا لیا۔اور نصاریٰ پر ہی کیا منحصر ہے اگر ایک مسلمان بھی مشکوک الحال ہو تو اس کا کھانا بھی نہیں کھا سکتے۔مثلاً ایک مسلمان دیوانہ ہے اور اسے حرام و حلال کی خبر نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس کے طعام یا تیار کردہ چیزوں پر کیا اعتبار ہوسکتا ہے۔اسی لئے ہم گھر میں ولایتی کسکٹ نہیں استعمال کرنے دیتے۔بلکہ ہندوستان کی ہندو کمپنیوں کے منگوایا کرتے ہیں۔(ملفوظات جلد چهارم صفحه - 66 ـ البدر ١٦ جولائی ١٩٠٤) تو اصل بات یہ ہے کہ شیطان انسان کے دل میں ہر وقت یہ بات ڈالنے کی تاک میں لگا