خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 467 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 467

$2004 467 خطبات مسرور لکھتے ہیں، تو اسی میں یہ ذکر بھی آگیا کہ دودھ اور شور بہ وغیرہ جو ٹینوں میں بند ہوکر ولایت سے آتا ہے بہت ہی نفیس اور صاف ستھرا ہوتا ہے اور ایک خوبی ان میں یہ ہوتی ہے کہ ان کو بالکل ہاتھ سے نہیں چھوا جا تا دودھ تک بھی بذریعہ مشین دوہا جاتا ہے۔اس پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: پر چونکہ نصاری اس وقت ایک قوم ہو گئی ہے جس نے دین کی حدود اور اس کے حلال وحرام کی کوئی پرواہ نہیں رکھی اور کثرت سے سور کا گوشت ان میں استعمال ہوتا ہے اور جو ذبح کرتے ہیں اس پر خدا کا نام ہرگز نہیں لیتے بلکہ جھٹکے کی طرح جانوروں کے سرجیسا کہ سنا گیا ہے علیحدہ کر دیئے جاتے ہیں۔اس لئے شبہ پڑ سکتا ہے کہ سکٹ اور دودھ وغیرہ جو ان کے کارخانوں کے بنے ہوئے ہوں ان میں سور کی چربی اور سور کے دودھ کی آمیزش ہو اس لئے ہمارے نزدیک ولایتی بسکٹ اور اس قسم کے دودھ اور شور بے وغیرہ استعمال کرنے بالکل خلاف تقوی اور نا جائز ہیں۔اس ضمن میں یہ بتادوں کہ یہاں ہر چیز پر Ingredients لکھے ہوتے ہیں، بعض اوقات چاکلیٹ یا بسکٹ لیتے وقت لوگ احتیاط نہیں کرتے، یا جیم (Jam) یا اس قسم کی چیزیں لیتے وقت احتیاط نہیں کرتے حالانکہ اس میں واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ اس میں الکوحل ملی ہوئی ہے یا اس میں سور کی چربی ملی ہوئی ہے یا اور کوئی چیز ملی ہوئی ہے، تو پڑھ کے لیا کریں۔چونکہ مجھے تجربہ ہوا ہے بعض لوگ تحفے میں بعض دفعہ لے آتے ہیں، میں احتیاط کرتا ہوں اور میں نے پڑھا تو اس میں الکوحل ملا ہوا تھا، ہر احمدی کو احتیاط کرنی چاہیئے۔نیز فرمایا : جس حالت میں کہ سور کے پالنے اور کھانے کا عام رواج ان لوگوں میں ولایت میں ہے تو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ دوسری اشیائے خوردنی جو یہ لوگ تیار کر کے ارسال کرتے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی حصہ اس کا نہ ہوتا ہو۔تو راوی لکھتے ہیں کہ اس پر ابوسعید صاحب المعروف عرب صاحب تاجر برنج رنگون نے ایک واقعہ حضرت اقدس کی خدمت میں یوں عرض کیا کہ رنگون میں