خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 429

$2004 429 خطبات مسرور تمہارا معاشرہ یقیناً جنت نظیر معاشرہ کہلانے کا مستحق ہو جائے گا۔یہ بھی یا درکھیں کہ دنیا میں لڑائی جھگڑے، فساد اس وقت زیادہ بڑھتے ہیں جب انسان دوسرے انسان پر بھروسہ کرتا ہے یا بھروسہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔انسانوں سے زیادہ تو قعات رکھتا ہے۔اللہ کی بجائے انسانوں پر توقعات ہوتی ہیں۔ان پر زیادہ امیدیں لگا کے بیٹھا ہوتا ہے۔تو جب اس سوچ کے ساتھ جو کسی کے گھر مہمان بن کر آئیں گے یا جائیں گے تو مہمانوں میں بھی اور میز بانوں میں بھی ہمیشہ بدظنیاں پیدا ہوں گی اور رنجشیں پیدا ہوں گی۔اور ہمارے معاشرے میں تو بعض طبیعتیں اس کو کچھ زیادہ محسوس کر لیتی ہیں اور دلوں میں رنجشیں پالتے رہتے ہیں۔یہ سب تقویٰ کی کمی ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔بعض لوگ جو عقلمند ہیں بڑا اچھا کرتے ہیں کہ اپنے چھوٹے خیمے لگا کر اپنی رہائش کا بندو بست کر لیتے ہیں۔مجھے نہیں پتہ کہ یہاں یہ انتظام ہے کہ نہیں اور پھر جو صاحب استطاعت ہیں وہ اپنے کاروان (Caravan) بھی لے کے آ جاتے ہیں۔اور یہ بڑی اچھی بات ہے۔آزادی سے رہتے ہیں۔تو انتظامیہ کی طرف سے صرف خیموں اور Caravan کے لئے جگہ مہیا کرنے کا انتظام ہونا چاہئے۔ان کا یہ فرض بھی ہے کہ اگر ایسے لوگ چاہتے ہوں تو وہ مہیا کریں۔۔U۔K میں تو اس کا اب بہت رواج ہو گیا ہے۔اور کھانا حضرت مسیح موعود کا لنگر تو خاص طور پر ان دنوں میں چلتا ہی رہتا ہے اس کا تو کوئی مسئلہ نہیں وہ تو مہیا ہو ہی جاتا ہے۔" اور انتظامیہ کا فرض بھی ہے کہ ان دنوں میں مہمانوں کا خیال بھی رکھیں۔یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان بن کر آ رہے ہیں۔تو میں سفر کی بات کر رہا تھا، کہ سفر جو بھی ہو بہر حال سفر ہی ہوتا ہے۔اس لئے جو بھی انتظام ہو جتنا مرضی بہترین انتظام ہو کچھ نہ کچھ اس میں ایسی باتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو بعض دفعہ تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔اس لئے مسافروں کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے سفر میں آسانی کے لئے خیر مانگتے رہنا چاہئے تا کہ ہمیشہ یہ سفر آرام سے گزریں جس قسم کے مرضی سفر ہوں۔