خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 423
$2004 423 خطبات مسرور اور پھر اس علم سے اپنے بچوں کو بھی فائدہ پہنچائیں۔لیکن اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ باپوں کی ذمہ داریاں ختم ہو گئی ہیں یا اب باپ اس سے بالکل فارغ ہو گئے ہیں یہ خاوندوں کی اور مردوں کی ذمہ داری بھی ہے کہ ایک تو وہ اپنے عملی نمونے سے تقویٰ اور علم کا ماحول پیدا کر دیں پھر عورتوں اور بچوں کی دینی تعلیم کی طرف خود بھی توجہ دیں۔کیونکہ اگر مردوں کا اپنا ماحول نہیں ہے، گھروں میں وہ پاکیزہ ماحول نہیں ہے، تقویٰ پر چلنے کا ماحول نہیں۔تو اس کا اثر بہر حال عورتوں پر بھی ہوگا اور بچوں پر بھی ہو گا۔اگر مرد چاہیں تو پھر عورتوں میں چاہے وہ بڑی عمر کی بھی ہو جا ئیں تعلیم کی طرف شوق پیدا کر سکتے ہیں کچھ نہ کچھ رغبت دلا سکتے ہیں۔کم از کم اتنا ہوسکتا ہے کہ وہ بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دیں اس لئے جماعت کے ہر طبقے کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مرد بھی عورتیں بھی۔کیونکہ مردوں کی دلچسپی سے ہی پھر عورتوں کی دلچسپی بھی بڑھے گی اور اگر عورتوں کی ہر قسم کی تعلیم کے بارے میں دلچسپی ہو گی تو پھر بچوں میں بھی دلچسپی بڑھے گی۔ان کو بھی احساس پیدا ہوگا کہ ہم کچھ مختلف ہیں دوسرے لوگوں سے۔ہمارے کچھ مقاصد ہیں جو اعلیٰ مقاصد ہیں۔اور اگر یہ سب کچھ پیدا ہوگا تو تبھی ہم دنیا کی اصلاح کرنے کے دعوے میں سچے ثابت ہو سکتے ہیں۔ورنہ دنیا کی اصلاح کیا کرنی ہے۔اگر ہم خود توجہ نہیں کریں گے تو ہماری اپنی اولادیں بھی ہماری دینی تعلیم سے عاری ہوتی چلی جائیں گی۔کیونکہ تجربہ میں یہ بات آچکی ہے کہ کئی ایسے احمدی خاندان جن کی آگے نسلیں احمدیت سے ہٹ گئیں صرف اسی وجہ سے کہ ان کی عورتیں دینی تعلیم سے بالکل لاعلم تھیں۔اور جب مرد فوت ہو گئے تو آہستہ آہستہ وہ خاندان یا ان کی اولادیں پرے ہٹتے چلے گئے کیونکہ عورتوں کو دین کا کچھ علم ہی نہیں تھا، تو اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔عورتوں کو بھی اور مردوں کو بھی اکٹھے ہو کر کوشش کرنی ہوگی تا کہ ہم اپنی اگلی نسل کو بچا سکیں۔اللہ تعالی ہمیں صحیح طور پر دین کاعلم پیدا کرنے اور اگلی نسلوں میں قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔