خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 421 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 421

$2004 421 خطبات مسرور شعبے میں جانا ہے تو اب تو اس عمر کو دوسری تیسری کھیپ پہنچ چکی ہے شاید چوتھی بھی پہنچ رہی ہو جہاں مستقبل کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔تو اس لئے ہر سال با قاعدہ اس کے مطابق نئے سرے سے فہرستیں بنتی رہنی چاہئیں، نئے جو شامل ہونے والے ہیں ان کو شامل کیا جانا چاہئے ، جو جھڑ نے والے ہیں ان کو علیحدہ کیا جانا چاہئے۔اس لحاظ سے اب شعبہ وقف نو کو کام کرنا ہوگا۔پھر جو پڑھ رہے ہیں ان کے بارے میں بھی علم ہونا چاہئے کہ ان میں درمیانے درجے کے کتنے ہیں اور یہ کیا کیا پیشے اختیار کر سکتے ہیں، ان کو کیا کام دیئے جاسکتے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا اس کام کو اب بڑے وسیع پیمانے پر دنیا میں ہر جگہ کرنے کی ضرورت ہے۔اور واقفین نو کے شعبے کو میں کہوں گا کہ یہ فہرستیں کم از کم ایسے بچے جو پندرہ سال سے اوپر کے ہیں ان کی تیار کر لیں اور تین چار مہینے میں اس طرز پر فہرست تیار ہونی چاہئے۔کیونکہ میرے خیال میں میں نے جو جائزہ لیا ہے جو رپورٹ کے اصل حقائق ہیں، زمینی حقائق جیسے کہتے ہیں وہ ذرا مختلف ہیں اس لئے ہمیں حقیقت پسندی کی طرف آنا ہوگا۔کچھ شعبہ جات تو میں نے گنوا دیئے ہیں تو یہ ہی نہ سمجھیں کہ ان کے علاوہ کوئی شعبہ اختیار نہیں کیا جا سکتا یا ہمیں ضرورت نہیں ہے۔بعض ایسے بچے ہوتے ہیں جو بڑے ٹیلینڈ (Talented) ہوتے ہیں ، غیر معمولی ذہین ہوتے ہیں ریسرچ کے میدان میں نکلتے ہیں جس میں سائنس کے مضامین بھی آتے ہیں، تاریخ کے مضامین بھی ہیں یا اور مختلف ہیں تو ایسے بچوں کو بھی ہمیں گائیڈ کرنا ہوگا وہی بات ہے جو میں نے کہی کہ ہر ملک میں کونسلنگ یا رہنمائی وغیرہ کے شعبہ کو فعال کرنا ہوگا۔اور جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے تو اس کمال کے لئے کوشش بھی کرنی ہوگی۔پھر انشاء اللہ تعالی ، اللہ تعالیٰ کے فضل بھی ہوں گے۔بہر حال بچوں کی رہنمائی