خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 402
$2004 402 خطبات مسرور بیٹھنا چاہئے اور درس سننا چاہئے۔پھر ایم ٹی اے کے ذریعہ سے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔اور ایم ٹی اے والوں کو بھی مختلف ملکوں میں زیادہ سے زیادہ اپنے پروگراموں میں یہ پروگرام بھی شامل کرنے چاہئیں جن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات کے تراجم بھی ان کی زبانوں میں پیش ہوں۔جہاں جہاں تو ہو چکے ہیں اور تسلی بخش تراجم ہیں وہ تو بہر حال پیش ہو سکتے ہیں۔اور اسی طرح اُردو دان طبقہ جو ہے، ملک جو ہیں ، وہاں سے اردو کے پروگرام بن کے آنے چاہئیں۔جس میں زیادہ سے زیادہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کلام کے معرفت کے نکات دنیا کو نظر آئیں اور ہماری بھی اور دوسروں کی بھی ہدایت کا موجب بنیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو بے انتہا لوگوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق مل رہی ہے، کروڑوں میں احمدیت داخل ہو چکی ہے ان کی تربیت کیلئے بھی ضروری ہے کہ ان تک بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ پہنچانے کی کوشش کی جائے اور یہ چیز تربیت کے لحاظ سے بڑی فائدہ مند ہوگی۔تربیت کے شعبوں کیلئے بھی بہت فائدہ مند ہوگی۔پس دعاؤں کے ساتھ اس طرف توجہ کرنی چاہئے اور جماعت کو ہر ملک میں جہاں جہاں شعبہ تربیت ہیں ان کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”دیکھو ایک زمانہ وہ تھا کہ آنحضرت سے تن تنہا تھے مگر لوگ حقیقی تقویٰ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے حالانکہ اب اس وقت لاکھوں مولوی اور واعظ موجود ہیں لیکن چونکہ دیانت نہیں، وہ روحانیت نہیں، اس لئے وہ اثر اندازی بھی ان کے اندر نہیں ہے۔انسان کے اندر جوزہر یلا مواد ہوتا ہے وہ ظاہری قیل وقال سے دور نہیں ہوتا اس کے لئے صحبت صالحین اور ان کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے فیضیافتہ ہونے کیلئے ان کے ہمرنگ ہونا اور جو عقائد صحیحہ خدا نے ان کو سمجھائے ہیں ان کو مجھ لینا بہت ضروری ہے۔(ملفوظات جلد ۳ صفحه ۴۶، البدر ۲۹/ اکتوبر ۱۹۰۳)