خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 398
398 $2004 خطبات مسرور کے لئے بہت مجاہدے کی ضرورت ہے۔اپنی نسلوں کو بچانے کیلئے بھی بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ” صحبت میں بڑا شرف ہے۔اس کی تاثیر کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچا ہی دیتی ہے۔کسی کے پاس اگر خوشبو ہو تو پاس والے کو بھی پہنچ ہی جاتی ہے۔اسی طرح پر صادقوں کی صحبت ایک روح صدق کی نفخ کر دیتی ہے۔یعنی صادقوں کی صحبت بھی سچائی کی روح پھونکتی ہے۔وہ روح پیدا کرتی ہے۔فرمایا کہ : ” میں سچ کہتا ہوں کہ گہری صحبت نبی اور صاحب نبی کو ایک کر دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں اگر صحیح تعلق ہو تو روحانیت کا مقام جو نبی کو ملتا ہے اس جیسا ہی مقام بچے طور پر ماننے والے کو بھی مل جاتا ہے۔تو فرمایا: ” یہی وجہ ہے جو قرآن شریف میں ﴿كُوْنُوْا مَعَ الصَّدِقِينَ) (التوبة: ۹۱۱) فرمایا ہے۔اور اسلام کی خوبیوں میں سے ایک بے نظیر خوبی ہے کہ ہر زمانے میں ایسے صادق موجود رہتے ہیں۔(الحكم جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ٢٤ جنوری ١٩٠٦ء صفحه ٥ ـ ملفوظات جلد چهارم صفحه (٦٠٩ حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ( یہ ایک لمبی حدیث ہے اس کا کچھ حصہ پڑھتا ہوں) کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بزرگ فرشتے گھومتے رہتے ہیں اور انہیں ذکر کی مجالس کی تلاش رہتی ہے۔جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہورہا ہو تو وہاں بیٹھ جاتے ہیں اور پروں سے اس کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ساری فضا ان کے اس سایہ برکت سے معمور ہو جاتی ہے۔جب لوگ اس مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو وہ بھی آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔تو پھر اللہ تعالیٰ کا یہ لمبا سوال جواب ہے کہ کیا مانگتے ہیں؟ جنت مانگتے ہیں، پناہ چاہتے ہیں۔بخشش چاہتے ہیں۔تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ان کو پتہ ہو کہ میری پناہ کیا ہے اور یہ سب کچھ ، تو ان کا کیا حال ہوگا؟ اور پھر فرماتا ہے کہ اچھا اگر وہ میری بخشش چاہتے ہیں، بخشش طلب کرتے ہیں تو میں نے انہیں بخش دیا اور انہیں سب کچھ وہ دے دیا جو انہوں نے مجھ سے مانگا۔تو فرشتے اس پہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ان میں فلاں خطا کار شخص بھی تھا۔وہ وہاں سے گزرا اور انہیں ذکر کرتے دیکھ کر یونہی