خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 394
394 خطبات مسرور چاہئے۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے رہنا چاہئے ، اس سے دعائیں مانگتے رہنا چاہئے۔$2004 اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ایک اور جگہ فرماتا ہے کہ ﴿ يَوَيْلَتَى لَيْتَنِيْ لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا لَقَدْ أَضَلَّنِيْ عَنِ الذِكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَ نِي وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِلْإِنْسَان خَدُولًا۔(سورة الفرقان آیت: 29-30 ) کہ اے وائے ہلاکت کاش میں فلاں شخص کو پیارا دوست نہ بناتا اس نے یقیناً مجھے اللہ کے ذکر سے منحرف کر دیا بعد اس کے کہ وہ میرے پاس آیا اور شیطان تو انسان کو بے یار و مددگار چھوڑ جانے والا ہے۔پس شیطان سے بچنے کیلئے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہمیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیتے رہنا چاہئے۔اپنی روحانیت کو بڑھانے کی طرف توجہ دیتے رہنا چاہئے اور اس زمانے میں جو صحیح طریقے ہمیں دین کو سمجھنے کے لئے بتائے وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہی بتائے ہیں۔اس لئے آپ کی کتب پڑھنے کی طرف بھی بہت توجہ دینی چاہئے۔یہ بات بھی صحبت صادقین کے زمرے میں آتی ہے کہ آپ کے علم کلام سے فائدہ اٹھایا جائے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سلسلے میں فرماتے ہیں کہ : اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان تباہیوں کے اسباب اور بواعث کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے گندے جلیسوں کی وجہ سے تباہی کے گڑھے میں گرا کرتا ہے۔وہ پہلے تو اپنے دوستوں کی مصاحبت پر فخر کرتا ہے مگر جب اسے کسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فَلَانًا خَلِيْلًا ﴾ کہ اے کاش میں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا اس نے تو مجھے گمراہ کر دیا۔اسی وجہ سے قرآن کریم نے مومنوں کو خاص طور پر نصیحت فرمائی ہے کہ كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ (توبه : ۱۱۹) یعنی اے مومنو! تم ہمیشہ صادقوں کی معیت اختیار کیا کرو۔حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے گردو پیش کی اشیاء سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا مگر وہ اپنی دوستی اور ہم نشینی کے