خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 393
393 $2004 خطبات مسرور گا۔پھر تو لوگ پوچھتے کہ وہ کون ہیں صادق ، وہ کہاں ہیں جن کے ساتھ ہم نے ہونا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا ہے۔تو یہ معرفت کی باتیں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے ذریعے سے ہی پتہ لگی ہیں۔آپ کی قوت قدسی نے صادقین کی ایک فوج تیار کی جو روحانیت میں اتنی ترقی کر گئی کہ ان کو صحابہ کا مقام حاصل ہو گیا۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق صادق کی جماعت میں رہ کر آپ کے قرآنی علوم و معارف سے فیضیاب ہو کر ہی صادقین میں شمار ہوسکتا ہے۔تو جہاں اس آیت میں ایمان لانے والوں کو تقویٰ کی راہوں پر چلنے والوں کو، یہ حکم ہے کہ تم صادقوں کے ساتھ رہو وہاں ہمیں یہ بھی حکم ہے جس کی وجہ سے ہمیں ایک فکر پیدا ہوتی ہے اور ہونی چاہئے کہ خود بھی صادق بنو۔اس زمانے کے امام کی جماعت میں شامل ہو گئے ہو تو اپنے اندر بھی پاک تبدیلیاں پیدا کرو۔خود بھی دوسروں کے لئے رہنمائی کا باعث بنو، ورنہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق صادق تو پیدا ہوتے رہیں گے لیکن یہ نہ ہو کہ ہم تعلیم سے دُور ہٹ کر گمراہی کے گڑھے میں گرتے چلے جائیں اور صادقین کی ایک اور جماعت آجائے جولوگوں کی رہنمائی کرنے والی ہو۔اللہ تعالیٰ نے تو دنیا کو ہدایت پر قائم رکھنے کے لئے اپنے نیک بندوں کو بھیجتے رہنا ہے۔ہمیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے رہیں۔اس سے دعا مانگتے رہیں کہ ہمارا شمار ان لوگوں میں ہو جو صادقین کے ساتھ جڑنے والے، جڑے رہنے والے ہوں۔امام الزمان کے ساتھ جڑے رہنے والے ہوں، اس کی تعلیمات سے فیضیاب ہونے والے ہوں اور اپنے اندر روحانی تبدیلی پیدا کرنے والے ہوں اور لوگوں کی رہنمائی کا باعث بھی بنیں۔یہ نہ ہو کہ ہم دنیا کی طرف جھکتے ہی چلے جائیں اور آہستہ آہستہ دین سے اس قدر دور چلے جائیں کہ شیطان ہم پر حملہ آور ہو جائے۔اور شیطان تو شروع میں بڑے سبز باغ دکھاتا ہے جب حملہ کرتا ہے اور بعد میں چھوڑ دیتا ہے۔اس لئے ہمیشہ زندگی میں پھونک پھونک کر قدم مارنا