خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 387
$2004 387 خطبات مسرور ہواور کسی پیشے سے تعلق رکھتا ہو، اپنے ماحول میں اس پاک تبدیلی کے ساتھ تبلیغ میں جت جائے گا تو تب ہی ہم اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والوں میں شمار ہو سکتے ہیں۔اور احمدیت کے جھنڈے کو جلد از جلد دنیا میں گاڑ سکتے ہیں۔ایک جگہ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔کہ : " اپنے پائے اور اپنے طبقے کے لوگوں کو احمدی بنائیں۔زمیندار زمیندار کو احمدی بنائیں، وکیل وکیل کو ، ڈاکٹر ڈاکٹروں کو، انجینئر انجینئروں کو، پلیڈر پلیڈروں کو۔اسی طرح چند سالوں میں ایسا عظیم الشان تغیر پیدا کیا جاسکتا ہے کہ طوفان نوح بھی اس کے سامنے مات ہو جائے“۔(الفضل ١٥ فروری ۱۹۲۹ء) جائے“۔(الفضل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینے کی کیا حالت ہوگئی، ہر ایک حالت میں تبدیلی ہے۔پس اس تبدیلی کو مد نظر رکھو اور آخری وقت کو ہمیشہ یادرکھو۔آنے والی نسلیں آپ لوگوں کا منہ دیکھیں گی۔اور اسی نمونے کو دیکھیں گی۔اگر تم پورے طور پر اپنے آپ کو تعلیم کا حاصل نہ بناؤ گے تو گویا آنے والی نسلوں کو تباہ کرو گے۔انسان کی فطرت میں نمونہ پرستی ہے۔وہ نمونے سے بہت جلد سبق لیتا ہے۔ایک شرابی اگر کہے کہ شراب نہ پیو ایک زانی کہے کہ زنانہ کرو۔ایک چور دوسرے کو کہے کہ چوری نہ کرو تو ان نصیحتوں سے دوسرے کیا فائدہ اٹھائیں گے۔بلکہ وہ تو کہیں گے کہ بڑا ہی خبیث ہے وہ جو خود کرتا ہے اور دوسروں کو اس سے منع کرتا ہے۔جو لوگ خود ایک بدی میں مبتلا ہو کر اسکا وعظ کرتے ہیں وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔دوسروں کو نصیحت کرنے والے اور خود عمل نہ کرنے والے بے ایمان ہوتے ہیں اور اپنے واقعات کو چھوڑ جاتے ہیں۔ایسے واعظوں سے دنیا کو بہت بڑا نقصان پہنچتا ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحه ٥١٨ ـ الحكم ٣١ جنوری ١٩٠٤ء) تو جس طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا خود کسی بدی میں مبتلا ہو کر دوسرے کو اس بدی سے کس طرح روک سکتے ہو۔کسی کو کس طرح راستہ دکھا سکتے ہوا گر خود ہی اس