خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 383
383 $2004 خطبات مسرور سب کچھ وہ ایک جھوٹے مقصد کے لئے کر رہے ہیں جبکہ اصل سچائی ہمارے پاس ہے۔ہمیں تو اس طرف بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے تا کہ انسانیت کو تباہی سے بچایا جا سکے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تبلیغ کے طریقے بتاتے ہوئے کہ کس طرح گفتگو کرنی چاہئے فرماتے ہیں کہ : ”دنیا میں تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔عوام، متوسط درجے کے، امراء۔فرمایا کہ عوام عموماً کم فہم ہوتے ہیں۔ان کو اتنا دین کا علم وغیرہ بھی نہیں ہوتا، سمجھ بھی نہیں ہوتی۔ان کی سمجھ موٹی ہوتی ہے اس لئے ان کو سمجھانا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔امراء کے لئے سمجھانا بھی مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ نازک مزاج ہوتے ہیں اور جلد گھبرا جاتے ہیں۔اور ان کا تکبر اور تعلی اور بھی سد راہ ہوتی ہے۔ایک تو ان کو اپنی دنیاوی پوزیشن کا بڑا خوف رہتا ہے۔دوسرے تکبر پیدا ہو جاتا ہے۔اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگ جاتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ گفتگو کرنے والے کو چاہئے کہ وہ ان کے طرز کے موافق ان سے کلام کرے یعنی مختصر مگر پورے مطلب کو ادا کرنے والی تقریر ہو۔قَلَّ وَدَلَّ مگر عوام کو تبلیغ کرنے کے لئے تقریر بہت ہی صاف اور عام فہم ہونی چاہئے۔رہے اوسط درجے کے لوگ ، زیادہ تر یہ گروہ اس قابل ہوتا ہے کہ ان کو تبلیغ کی جاوے۔وہ بات کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کے مزاج میں وہ تعلی اور تکبر اور نزاکت بھی نہیں ہوتی جو امراء کے مزاج میں ہوتی ہے۔اس لئے ان کو سمجھانا بہت مشکل نہیں ہوتا۔(ملفوظات جلد دوم صفحه ١٦١- ١٦٢ الحكم ٢٤ مارچ ١٩٠٢) پھر آپ نے فرمایا چاہئے کہ : ” جب کلام کرے تو سوچ کر اور مختصر کام کی بات کرے۔بہت بحثیں کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔پس چھوٹا سا چٹکلہ کسی وقت چھوڑ دیا جو سیدھا کان کے اندر چلا جائے۔پھر کبھی اتفاق ہو تو پھر سہی۔غرض آہستہ آہستہ پیغام حق پہنچاتا رہے اور تھکے نہیں۔کیونکہ آج کل خدا کی محبت اور اس کے ساتھ تعلق کو لوگ دیوانگی سمجھتے ہیں۔اگر صحابہ اُس زمانے میں وتے تو لوگ انہیں سودائی کہتے اور وہ انہیں کافر کہتے۔دن رات بیہودہ باتوں اور طرح طرح کی ہو