خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 375 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 375

$2004 375 خطبات مسرور زمانے میں بڑی بڑی کاریں ہیں یا شاید اس سے بھی زیادہ۔کیونکہ اس زمانے میں سفر کا ذریعہ خاص طور پر ریگستان میں، اور وہ ریگستانی علاقہ ہی تھا اونٹ ہی ہوتا تھا۔تو فرمایا کہ دنیاوی لحاظ سے جو ایک اعلیٰ معیار ہے کسی انعام کا اس سے بڑھ کر کسی کی ہدایت کا باعث بن کر کسی کو سیدھے راستے پر لا کر تم اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی برکتوں کے مورد ہو گے۔غرض کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والے کا دنیاوی نظر سے بھی کوئی مقابلہ نہیں ہے، کوئی موازنہ نہیں ہے۔انسان کی سوچ سے ہی باہر ہے، اس لئے اس طرف بہت توجہ کریں۔آپ لوگ جو ان ملکوں میں بیٹھے ہوئے ہیں، یہاں بھی فرض بنتا ہے کہ اسلام کی تعلیم کو پہنچائیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” ہمارے اختیار میں ہو تو ہم فقیروں کی طرح گھر بہ گھر پھر کر خدا تعالیٰ کے بچے دین کی اشاعت کریں اور اس ہلاک کرنے والے شرک اور کفر سے جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے لوگوں کو بچالیں۔اگر خدا تعالیٰ ہمیں انگریزی زبان سکھا دے تو ہم خود پھر کر اور دورہ کر کے تبلیغ کریں اور اس تبلیغ میں زندگی ختم کر دیں خواہ مارے ہی جاویں۔(ملفوظات جلد دوم - صفحه ۲۱۹ ـ الحكم ۱۰ جولائی ۱۹۰۲ء) دیکھیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی طبیعت میں یہ پیغام پہنچانے کا کس قدر جوش پایا جاتا ہے۔پس ہمیں بھی اپنی ترجیحات کو بدلنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کے معاملہ میں سنجیدہ ہونا چاہئے تبھی ہم آپ کی بیعت میں شامل ہونے کے دعوے میں بچے ثابت ہو سکتے ہیں۔آج جہاد کے لئے ہمیں تلوار چلانے کے لئے نہیں بلایا جا رہا۔آج ہمیں تیروں کی بوچھاڑ کے آگے کھڑے ہو کر اسلام کا دفاع کرنے کے لئے نہیں کہا جا رہا۔آج ہمیں توپ کے گولوں کے آگے کھڑے ہونے کے لئے نہیں کہا جا رہا۔آج ہم سے جو مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اپنے مالوں کو بھی دین کی راہ میں خرچ کرو، اور اپنے وقت کو بھی دین کی راہ میں خرچ کرو۔آج ہمیں