خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 361
361 $2004 خطبات مسرور زیادہ بڑھا کر دینے کی طاقت ہے۔اللہ تعالیٰ تو پابند نہیں ہے کہ صرف سات سو گنا تک ہی بڑھائے۔اس کے تو خزانے محدود نہیں ہیں۔اس لئے ہمیشہ اپنے چندوں کے حساب کو صاف رکھنا چاہئے اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کس طرح نازل ہوتے ہیں، کس طرح برستے ہیں۔اب بعض لوگوں میں یہ غلط تصور ہے کہ کیونکہ قواعد میں یہ شرط ہے کہ کسی بھی عہدے کے لئے یا ویسے عام طور پر پوچھا جاتا ہے تو تب بھی کہ چھ مہینے سے زیادہ کا بقایا دار نہ ہو اس لئے ضروری ہے کہ چھ مہینے کے بعد ہی چندہ ادا کرنا ہے، بلاوجہ چھ چھ مہینے تک چندہ ادا نہیں کرتے تو یہ چھ مہینے کی جو شرط ہے صرف زمینداروں کے لئے ہے جن کی آمد کیونکہ زمیندارے پر ہے اور عموماً چھ ماہ کے بعد ہی زمیندار کو آمد ہوتی ہے۔اس لئے یہ رعایت ان سے کی جاتی ہے۔ماہوار کمانے والے ہوں ملازم پیشہ یا کاروباری لوگ، ان کو تو ماہوار ادائیگی کرنی چاہئے تاکہ بعد میں پھر بوجھ نہ رہے جیسا کہ میں نے کہا، بلا وجہ کی سبکی کا بھی احساس رہتا ہے۔اور سب سے بڑا چندہ ادا کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے رہتے ہیں۔تو بہر حال اگر بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ پوری شرح یعنی 1/16 سے چندہ عام ادا نہیں کر سکتے تو اس رعایت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔یہ ان کے لئے ہے کہ وہ کم شرح سے بھی چندہ دے سکتے ہیں لیکن بہر حال غلط بیانی نہیں ہونی چاہئے اور بقایا دار نہیں ہونا چاہئے۔اور یہاں میں جو جماعتی عہد یداران ہیں، صدر جماعت یا سیکرٹریان مال، ان کو بھی یہ کہتا ہوں کہ ہر فر د جماعت کی کوئی بھی بات ہر عہدیدار کے پاس ایک راز ہے اور امانت ہے اس لئے اس کو باہر نکال کر امانت میں خیانت نہیں کرنی چاہئے، یا مجلسوں میں بلا وجہ ذکر کر کے امانت میں خیانت نہیں کرنی چاہئے۔رعایت یا معافی چندہ کوئی شخص لیتا ہے تو یہ باتیں صرف متعلقہ عہد یداران تک ہی محدود رہنی چاہئیں۔یہ نہیں ہے کہ پھر اس غریب کو جتاتے پھریں کہ تم نے رعایت لی ہوئی ہے اس لئے اس کو حقیر سمجھا جائے۔بہر حال ہر ایک کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں،۔اول تو اکثر میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ رعایت لیتے ہیں ان میں سے اکثریت کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ جتنی جلد ہو سکے اپنی