خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 360 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 360

$2004 360 خطبات مسرور پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا میں نے اس بادل میں سے جس کی بارش کا تم پانی لگارہے ہو یہ آواز سنی تھی کہ اے بادل! فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کر تم نے کون سا ایسا نیک عمل کیا ہے کہ جس کا تجھ کو یہ بدلہ مل رہا ہے۔باغ کے مالک نے کہا کہ اگر پوچھتے ہیں تو سنیں کہ میرا طریق کار یہ ہے کہ اس باغ سے جو پیداوار ہوتی ہے اس کا ایک تہائی خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہوں، ایک تہائی اپنے اہل وعیال کے گزارے کے لئے رکھتا ہوں، اور باقی ایک تہائی دوبارہ ان کھیتوں میں بیج کے طور پر استعمال کرتا ہوں“۔(مسلم کتاب الزهد باب فضل الانفاق على المساكين و ابن السبيل آج کل بھی کئی لوگوں کا یہ طریق ہے، کئی کاروباری لوگوں نے بتایا کہ وہ روزانہ کی آمد یا ماہوار آمد میں سے جو بھی ہو چندہ نکال کر الگ رکھ دیتے ہیں یا جب بھی وہ اپنے آمد و خرچ کا حساب کرتے ہیں اور اپنے منافع کو الگ کرتے ہیں تو ساتھ ہی وہ چندہ بھی علیحدہ کر دیتے ہیں۔بعض ماہوار خرچ کے لئے اپنے کاروبار سے رقم لیتے ہیں اس میں سے چندہ ادا کر دیتے ہیں۔اور سال کے آخر میں جب آخری فائنل حساب کر رہے ہوتے ہیں تو پھر اگر کوئی بچت ہو تو اس میں سے وہ چندہ ادا کر دیتے ہیں۔تو اس طرح ایک تو ان پر زائد بوجھ نہیں پڑتا کہ سال کے آخر میں چندہ یا چند مہینوں بعد یہ چندہ کس طرح ادا کیا جائے۔انسان پر ایک بوجھ ہوتا ہے۔کیونکہ پھر اس صورت میں بڑی رقم نکالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔دوسرے بقایا دار ہونے کی فکر نہیں رہتی کہ بقایا دار ہوں گے تو جماعت میں بھی اور مرکز میں بھی سبکی ہو گی۔اور تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے کاروبار میں بھی بے انتہاء برکت ڈالتا ہے۔اور بعض بتاتے ہیں کہ ان کو یہ فائدہ ہے کہ بے انتہا برکتیں ہوتی ہیں کہ ان کو خود بھی حیرت ہوتی ہے کہ یہ روپیہ آ کہاں سے رہا ہے، یہ کمائی آکہاں سے رہی ہے۔بہر حال یہ تو اللہ تعالیٰ کے دینے کے طریقے ہیں انسان بھلا کہاں اللہ تعالیٰ کی دین تک پہنچ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے تم میری راہ میں خرچ کرو تو میں تمہیں سات سو گنا تک بڑھ کر دیتا ہوں بلکہ فرمایا کہ وَاللَّهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ کہ اللہ جسے چاہے جتنا چا ہے بڑھا کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ میں سات سو گنا سے بھی