خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 359 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 359

$2004 359 خطبات مسرور ہوں ، ان کو تو خاص طور پر اس بارے میں بڑی احتیاط کرنی چاہئے۔اس انتظار میں نہ بیٹھے رہیں کہ دفتر ہمارا حساب بھیجے گا یا شعبہ مال یاد کروائے گا تو پھر ہم نے چندہ ادا کرنا ہے۔کیونکہ پھر یہ بڑھتے بڑھتے اس قدر ہو جاتا ہے کہ پھر دینے میں مشکل پیش آتی ہے۔چندے کی ادائیگی میں مشکل پیش آتی ہے۔پھر اتنی طاقت ہی نہیں رہتی کہ یکمشت چندہ ادا کرسکیں۔اور پھر یہ لکھتے ہیں کہ کچھ رعایت کی جائے اور رعایت کی قسطیں بھی اگر مقرر کی جائیں تو وہ چھ ماہ سے زیادہ کی تو نہیں ہوسکتیں۔اس طرح خاص طور پر موصیان کی وصیت پر زد پڑتی ہے تو پھر ظاہر ہے ان کو تکلیف بھی ہوتی ہے اور پھر اس تکلیف کا اظہار بھی کرتے ہیں۔تو اس لئے پہلے ہی چاہئے کہ سوچ سمجھ کر اپنے حسابات صاف رکھیں اور اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔اور جب بھی آمد ہو اس آمد میں جو حصہ بھی ہے نکالیں، موصی صاحبان بھی اور دوسرے کمانے والے بھی جنہوں نے چندہ عام دینا ہے،1/16 حصہ، اپنا چندہ اپنی آمد میں سے ساتھ کے ساتھ ادا کرتے رہا کریں۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قصہ بیان کیا کہ ایک آدمی بے آب و گیاہ جنگل میں جارہا تھا۔بادل گھرے ہوئے تھے اس نے بادل میں سے ایک آواز سنی کہ اے بادل! فلاں نیک انسان کے باغ کو سیراب کر۔وہ بادل اس طرف کو ہٹ گیا اور پھر پتھریلی سطح مرتفع پر بارش برسی ، کوئی چھوٹی سی پہاڑی تھی ) اور پھر بارش کے نتیجہ میں پانی چھوٹے سے نالے میں بہنے لگا۔وہ شخص بھی اس نالے کے ساتھ ساتھ اس کے کنارے کنارے چلنا شروع ہو گیا اور وہ نالہ جا کے ایک باغ میں داخل ہوا، وہاں اس نے دیکھا باغ کا مالک کدال لے کر پانی ادھر ادھر مختلف کیاریوں میں لگا رہا ہے اس آدمی نے باغ کے مالک سے پوچھا اے اللہ کے بندے! تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے وہی نام بتایا جو اس مسافر نے سنا تھا، ایک نظارے میں آواز اس کو آئی تھی۔پھر باغ کے مالک نے اس مسافر سے پوچھا کہ اے اللہ کے بندے ! تم مجھ سے میرا نام کیوں