خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 358
$2004 358 مسرور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے ہیں جو خرچ کرنے والے سخنی کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے اخراجات کم کریں اور اپنے معیار قربانی کو بڑھا ئیں اور عموماً کم آمدنی والے لوگ قربانی کے یہ معیار حاصل کرنے کی زیادہ کوشش کرتے ہیں۔میں جانتا ہوں کہ بعض لوگ اندازے سے بجٹ لکھوا دیتے ہیں خاص طور پر ہماری جماعت میں زمیندار طبقہ ہے ان کو صحیح طرح پتہ نہیں ہوتا اور خاص طور پر پاکستان میں زمینداری کا انحصار نہری علاقوں میں جہاں جاگیر داروں اور وڈیروں نے پانی پر مکمل طور پر قبضہ کیا ہوتا ہے اور اپنی زمینیں سیراب کر رہے ہوتے ہیں پانی کو آگے نہیں جانے دیتے اور چھوٹے زمیندار بیچارے پانی نہ ملنے کی وجہ سے نقصان اٹھا رہے ہوتے ہیں۔(آپ میں سے اکثر یہاں زمینداروں میں سے بھی آئے ہوئے ہیں خوب اندازہ ہوگا۔تو نیچے ان کی فصلیں بھی اچھی نہیں ہوتیں لیکن ایسے مخلصین بھی ہیں کیونکہ بجٹ لکھوا دیا ہوتا ہے اس لئے قرض لے کر بھی اس کی ادائیگی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور جب ان کو کہا جائے کہ رعایت شرح لے لو کیونکہ اگر آمد نہیں ہوتی تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے تو کہتے ہیں کہ اگر قرض لے کر ہم اپنی ذات پہ خرچ کر سکتے ہیں تو قرض لے کر اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کیوں نہیں کر سکتے۔اور ان کا یہی نقطۂ نظر ہوتا ہے کہ شاید اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ہماری آئندہ فصلوں میں برکت ڈال دے۔لیکن بعض لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے۔بہر حال یہ تو ہر ایک کا اللہ تعالیٰ سے معاملہ ہے، تو کل کا معاملہ ہے، ہر ایک کا اپنا اپنا معیار ہوتا ہے اس لئے میں یہ تو نہیں کہتا کہ قرض لے کر اپنے چندے ادا کرو۔طاقت سے بڑھ کر بھی اپنے اوپر تکلیف وارد نہیں کرنی چاہئے ، اپنے آپ کو تکلیف میں نہیں ڈالنا چاہئے۔لیکن جہاں تک اخراجات میں کمی کر کے اپنے اخراجات کو، ایسے اخراجات کو جن کے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے جو ملتوی کئے جاسکتے ہوں ان کو ٹالا جا سکتا ہوان کو ٹال کر اپنے چندے ضرور ادا کرنے چاہئیں، خاص طور پر موصی صاحبان کے لئے میں یہاں کہتا