خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 356 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 356

خطبات مسرور $2004 356 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ (سورة ال عمران آیت نمبر: 93) جماعت کا مالی سال 30 / جون کو ختم ہوتا ہے، اور دو تین مہینے پہلے سے ہر ملک کا جو مال کا شعبہ ہے ان کو اپنے لازمی چندہ جات کا بجٹ پورا کرنے کی فکر پڑ جاتی ہے۔اور آخری ایک مہینہ میں تو یہ فکر بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔اور فکر کے اظہار کے خط آنے شروع ہو جاتے ہیں کہ دعا کریں بڑی فکر ہے، بجٹ میں اتنی کمی ہے، اتنی کمی ہے۔بہر حال ان کی یہ فکر اپنی جگہ لیکن یہ بھی تسلی رہتی ہے کہ یہ الہی سلسلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہماری ضرورتوں کا خوب اندازہ ہے۔اس لئے وہ انشاء اللہ تعالیٰ ان ضروریات کو پورا کرنے کے بھی اسی طرح سامان پیدا فرمائے گا جس طرح ضروریات کو بڑھا رہا ہے۔تاہم کیونکہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ نصیحت اور یاد دہانی کرواتے رہو اس لئے اس حکم کے ماتحت آج کے خطبے میں میں اس طرف کچھ توجہ دلاؤں گا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف جگہوں پہ مالی قربانی کی طرف توجہ بھی دلائی ہے اور ترغیب بھی دلائی ہے اور مومن کی نشانی بتائی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے نہیں گھبراتے۔اس آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے یہی فرمایا کہ تم نیکی کو ہرگز حاصل نہیں کر سکتے ، تمہیں نیکیاں بجالانے کی توفیق ہرگز نہیں مل سکتی جب تک تمہارے دل کی کنجوسی اور نخل ڈور نہیں ہوتا اور تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اس کی مخلوق کی راہ میں وہ مال خرچ نہیں کرتے جو تمہیں بہت عزیز