خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 30
30 $2004 خطبات مسرور کرتا ) اور اب ان کا یہ حال ہے کہ ان میں سے بعض کے پاس ایک ایک لاکھ درہم یا دینار ہے۔(بخاری کتاب الاجاره باب من آجر نفسه ليحمل على ظهره ثم تصدق به اسی سنت کی پیروی کرتے ہوئے آج بھی جماعت میں ایسی مثالیں ملتی ہیں جہاں عورتوں نے بھی سلائی کڑھائی کر کے یا مرغی کے انڈے بیچ کر اپنے استعمال میں لائے بغیر خلیفہ وقت کی طرف سے کی گئی تحریکات میں حصہ لیا۔اور اس طرح سے پہلوں سے ملنے کی پیشگوئی کو بھی پورا کیا۔حضرت خلیفہ اول کا واقعہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے بارہ میں لکھا ہے لیکن ہر دفعہ پڑھنے سے ایمان میں ایک تازگی پیدا ہوتی ہے اور قربانی کی ایک نئی روح پیدا ہوتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ: اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے۔ان کے بعض خطوط کی چند سطر میں بطور نمونہ ناظرین کو دکھلاتا ہوں : میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے۔حضرت پیر ومرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔اگر خریدار براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں تو مجھے اجازت فرمائیے کہ یہ ادنی خدمت بجالاؤں کہ ان کی تمام قیمت ادا کردہ اپنے پاس سے واپس کر دوں۔حضرت پیر و مرشد نابکارشر مسار عرض کرتا ہے اگر منظور ہو تو میری سعادت ہے۔میرا منشاء ہے کہ براہین کے طبع کا تمام خرچ میرے پر ڈال دیا جائے۔پھر جو کچھ قیمت میں وصول ہو وہ روپیہ آپ کی ضروریات میں خرچ ہو۔مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے تیار ہوں۔دعا فرماویں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو“۔(فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۶)۔( یعنی پیسے بھی دے رہے ہیں اور فرمایا کہ اس کے بعد جو آمد ہو وہ بھی اسی کام کو جاری رکھنے کے لئے خرچ ہو )۔