خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 328 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 328

$2004 328 خطبات مسرور 6 جب قبل از وقت بلا انسان اپنے دل ہی دل میں خدا سے دعائیں مانگتا رہتا ہے اور استغفار کرتا رہتا ہے۔تو پھر خداوند رحیم کریم ہے وہ بلائل جاتی ہے۔لیکن جب بلا نازل ہو جاتی ہے پھر نہیں ٹلا کرتی۔بلا کے نازل ہونے سے پہلے دعائیں کرتے رہنا چاہئے اور بہت استغفار کرنا چاہئے اس طرح سے خدا بلا کے وقت محفوظ رکھتا ہے۔(ملفوظات جلد نمبر ۵ صفحه ۲۸۲ الحکم ۲۴ ستمبر ١٩٠٧) تو عام حالات میں بھی دیکھ لیں جب آدمی کسی بیماری میں تکلیف میں دنیا میں بھی کسی انسان کو پکارتا ہے تو وہ اس کی مدد کے لئے آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو جب اس طرح خالص ہو کر پکاریں گے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی ہے کہ ایک قدم چلو گے تو دو قدم چل کر آؤں گا ہم پیدل آؤ گے تو میں تمہاری طرف دوڑتا ہوا آؤں گا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” گناہ کی یہ حقیقت نہیں کہ اللہ گناہ کو پیدا کرے اور پھر ہزاروں برس کے بعد گناہ کی معافی سوجھے جیسے مکھی کے دو پر ہیں ایک میں شفا اور دوسرے میں زہر ، اسی طرح انسان کے دو پر ہیں ایک معاصی کا اور دوسرا خجالت۔توبہ، پریشانی کا۔یہ ایک قاعدے کی بات ہے جیسے ایک شخص جب غلام کو سخت مارتا ہے تو پھر اس کے بعد پچھتاتا ہے گویا کہ دونوں پر اکٹھے حرکت کرتے ہیں۔زہر کے ساتھ تریاق ہے۔اب سوال یہ ہے کہ زہر کیوں بنایا گیا تو جواب یہ ہے کہ گو یہ زہر ہے مگر کشتہ کرنے سے حکم اکسیر کا رکھتا ہے۔زہر کو بھی جب ایک خاص پراسیس (Process) میں سے گزارا جائے تو وہ دوائی کا بھی کام دے جاتے ہیں۔ایسے زہروں سے بہت ساری دوائیاں بنتی ہیں۔فرمایا کہ : ” اگر گناہ نہ ہوتا تو رعونت کا زہر انسان میں بڑھ جاتا اور وہ ہلاک ہو جاتا۔تو بہ اس کی تلافی کرتی ہے۔کبر اور عجب کی آفت سے گناہ انسان کو بچائے رکھتا ہے۔جب نبی معصوم صلی اللہ علیہ وسلم 70 بار استغفار کرے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے۔گناہ سے تو بہ وہی نہیں کرتا جو اس پر راضی ہو جاوے۔اور جو گناہ کو گناہ جانتا ہے وہ آخرا سے چھوڑے گا“۔فرمایا: ”حدیث میں آیا ہے کہ جب انسان بار بار روکر اللہ سے بخشش چاہتا ہے تو آخر کار