خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 327
$2004 327 خطبات مسرو استغفار بہت کرو اس سے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اولا د بھی دے دیتا ہے۔یادرکھو یقین بڑی چیز ہے۔جوشخص یقین میں کامل ہوتا ہے خدا تعالیٰ خود اس کی دستگیری کرتا ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحه ٤٤٤ - الحكم ۳۱ جنوری ۱۹۰۱ء) تو بہت سے لوگ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا لکھتے رہتے ہیں اولاد کے لئے بھی اور دوسری چیزوں کے لئے۔ان کو یہ نسخہ آزمانا چاہئے۔لیکن بات وہی ہے کہ صرف رٹے ہوئے فقرے نہ ہوں بلکہ دل کی گہرائیوں سے استغفار کرے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور انسان اللہ تعالیٰ کے باقی احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔اب یہ ہے کہ استغفار کس طرح پڑھنا چاہئے۔اس بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”استغفار بہت پڑھا کرو۔انسان کی دوہی حالتیں ہیں یا تو وہ گناہ نہ کرے یا اللہ تعالیٰ اس گناہ کے بد انجام سے بچائے۔استغفار پڑھنے سے یا تو بد انجام سے اللہ تعالیٰ بچالیتا ہے یا وہ گناہ ہی اس سے سرزد نہیں ہوتا۔سو استغفار پڑھنے کے وقت دونوں معنوں کا لحاظ رکھنا چاہئے۔فرمایا: ” ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ سے گزشتہ گناہوں کی پردہ پوشی چاہے اور دوسرا یہ کہ خدا سے توفیق چاہے کہ آئندہ گناہوں سے بچائے۔مگر استغفار صرف زبان سے پورا نہیں ہوتا بلکہ دل سے چاہئے نماز میں اپنی زبان میں بھی دعامانگو یہ ضروری ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحه ۵۲۵۔الحکم ۱۰ اگست ۱۹۰۱) پھر آپ فرماتے ہیں: ”خوب یا درکھو کہ لفظوں سے کچھ کام نہیں بنے گا۔اپنی زبان میں بھی استغفار ہوسکتا ہے کہ خدا پچھلے گناہوں کو معاف کرے اور آئندہ گنا ہوں سے محفوظ رکھے اور نیکی کی توفیق دے اور یہی حقیقی استغفار ہے۔کچھ ضرورت نہیں کہ یونہی اَسْتَغْفِرُ اللهِ، اسْتَغْفِرُ الله کہتا پھرے اور دل کی خبر تک نہ ہو۔یا درکھو کہ خدا تک وہی بات پہنچتی ہے جو دل سے نکلتی ہے۔اپنی زبان میں ہی خدا سے بہت دعائیں مانگنی چاہئیں۔اس سے دل پر بھی اثر ہوتا ہے۔زبان تو صرف دل کی شہادت دیتی ہے۔اگر دل میں جوش پیدا ہو اور زبان بھی ساتھ مل جائے تو اچھی بات ہے۔بغیر دل کے صرف زبانی دعا ئیں عبث ہیں۔یعنی فضول ہیں۔”ہاں دل کی دعائیں اصل دعا ئیں ہوتی ہیں