خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 306
306 $2004 خطبات مسرور مصائب کو ذریعہ ثواب سمجھو۔(جامع ترمذی کتاب الزهد باب ماجاء في الزهادة في الدنيا) تو دیکھیں بعض لوگ مال ضائع ہونے پر افسوس کرتے ہیں، حالانکہ کاروبار میں اونچ نیچ بھی ہوتی ہے۔بعض دفعہ دشمنیاں بھی ہوتی ہیں ، شیطان صفت لوگ نقصان بھی پہنچا دیتے ہیں تو اس پر صرف انا للہ پڑھ کے اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرنا چاہئے۔اُس کے آگے جھکنا چاہئے نہ کہ رونا دھونا کیا جائے ، واویلا کیا جائے۔اور یہ یقین ہونا چاہئے کہ جس خدا نے پہلے نعمتوں سے نوازا تھا وہ دوبارہ بھی دے سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہونا چاہئے ، اسی سے تعلق قائم رکھنا چاہئے اور جب اس یقین کے ساتھ تعلق رکھیں گے تو ہمیشہ نو از تارہے گا۔احمدیوں نے مختلف اوقات میں جب کبھی پاکستان میں یا کہیں ان کے خلاف فسادا اٹھے یہ نظارہ دیکھا اور یہ تجربہ کیا کہ لاکھوں کا کاروبار جلایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ایسا نوازا کہ صبر کی وجہ سے اور اس اعتماد کی وجہ سے جو ان کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر تھا کہ جماعت کی وجہ سے اور احمدی ہونے کی وجہ سے نقصان ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ دے گا، اللہ نے لاکھوں کو کروڑوں میں بدل دیا۔اگر ہزاروں کا ہوا تو لاکھوں کا بدلا دے دیا۔تو اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں سے یہ سلوک کرتا رہتا ہے اور ہم اپنی زندگیوں میں تجربہ بھی کرتے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اپنے پر اعتماد اور یقین پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔حضرت سہل بن سعد روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت رکھتی ہوتی تو کا فراس میں سے پانی کے ایک گھونٹ کے برابر بھی حصہ نہ پاتا“۔(ریاض الصالحین۔باب فضل الزهد في الدنيا) تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو دنیا کی حیثیت مچھر کے ایک پر کے برابر بھی نہیں ہے۔کیونکہ اگر حیثیت ہوتی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تو میری نعمت تھی میں مومنوں کو دیتا پھر کافروں کو کیوں دیتا۔اور ہم ہیں کہ اس کے لئے قضاء میں ، تھانوں میں، کچہریوں میں اپنے عزیزوں رشتہ داروں کو گھسیٹتے