خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 305
خطبات مسرور 305 $2004 اس کا خدا کے ساتھ معاملہ ہے اور مسیح محمدی کے ساتھ ایک عہد بیعت کیا ہے، بیعت کی تجدید کی ہے کہ ہم تمام برائیوں سے بچتے رہیں گے۔تو اس کے بعد بھی اگر ایسی حرکتیں ہوں تو پھر کیا ایسا عمل کرنے والا اس قابل ہوگا کہ جماعت میں رہ سکے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو ایسوں کے متعلق لکھا ہے کہ وہ کاٹا جائے گا۔ایک روایت ہے حضرت سہل بیان کرتے ہیں۔” ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے ایسا کام بتائیے کہ جب میں اسے کروں تو اللہ تعالیٰ مجھ سے محبت کرنے لگے اور باقی لوگ مجھے چاہنے لگیں۔آپ نے فرمایا کہ دنیا سے بے رغبت اور بے نیاز ہو جاؤ اور اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کرنے لگے گا۔جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس کی خواہش چھوڑ دو، لوگوں کی طرف حریص نظروں سے نہ دیکھو، لوگ تجھ سے محبت کرنے لگ جائیں گئے۔(ابن ماجہ۔باب الزهد فی الدنیا) تو فرمایا کہ اگر یہ عمل کرو گے تو اس سے حرص، لالچ یا دوسرے نقصان پہنچانے کی سوچ سے بھی بچ جاؤ گے۔نقصان پہنچانا تو ایک طرف رہا یہ سوچ بھی تمہارے اندر نہیں آئے گی۔دنیا سے بے رغبتی کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعریف فرمائی ہے اگر ہر مومن وہ معیار حاصل کر لے اور پھر قناعت کے ساتھ ساتھ زہد بھی حاصل ہو جاتا ہے اور مومن کی قناعت زہد کے ساتھ مل کر ہی اعلیٰ معیار قائم کرتی ہے۔آپ فرماتے ہیں: کہ دنیا سے بے رغبتی اور زہد یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے اوپر کسی حلال کو حرام کر لے اور اپنے مال کو برباد کر دے۔بلکہ زہد یہ ہے کہ تمہیں اپنے مال سے زیادہ خدا کے انعام اور بخشش پر اعتماد ہو اور جب تم پر کوئی مصیبت آئے تو اس کا جو اجر و ثواب ملنا ہے اس پر تمہاری نگاہ جم جائے اور تم