خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 304
$2004 304 خطبات مسرور آخرت کے گھر میں ہو گے اور وہاں کوئی عمل نہیں ہوگا۔یہ تنبیہ کی ہے۔یہ مطلب نہیں کہ اگر استطاعت ہے تم دنیا کے بندے بن جاؤ۔یہ وارنگ ہے کہ تم میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ دنیا داری کے دھندوں میں خدا کو بھول جاؤ۔اگر خدا کو بھول گئے تو اس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی یہاں نہیں ملے گی تو اگلے جہان میں ملے گی۔سوچو اور غور کرو کیا تم خدا تعالیٰ کی سزا کو سہہ سکتے ہو۔یقینا ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کرسکتا۔جو یہ کہہ سکے کہ ہاں میں سہہ سکتا ہوں۔فرمایا کہ اس لئے زندگی کے جو چند دن ہیں ان میں خدا کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرو۔تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچو، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے آگے جھکنے اور اپنی رضا کی راہوں پر چلنے والا بنائے۔کعب بن ایاز بیان کرتے ہیں کہ میں نے ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنااِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةٌ وَفِتْنَةُ أُمَّتِنى الْمَالُ کہ ہر امت کی ایک آزمائش ہوتی ہے اور میری امت کی آزمائش مال کے ذریعے ہوگی۔(ترمذی۔کتاب الزهد باب ماجاء ان فتنة هذه الامة في المال) چنانچہ دیکھ لیں اس زمانے میں بھی ہم دیکھتے ہیں اس کے مطابق مسلمانوں کی کیا حالت ہے۔شرم آتی ہے یہ دیکھ اور سن کر کہ مال کمانے کی حرص اور ہوس نے اللہ تعالیٰ کے خوف سے ہی بے پرواہ کر دیا ہے۔تول میں کمی ہے، ماپ میں کمی ہے، کاروبار میں دھوکہ ہے دکھائیں گے کچھ اور دیں گے کچھ۔ماحول کے اثر کی وجہ سے بعض دفعہ بعض احمدی بھی اس برائی میں ملوث ہو جاتے ہیں، متاثر ہو جاتے ہیں۔اپنوں اور غیروں سے بھی دھو کہ ہوتا ہے اور پھر غیروں کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔چاہے وہ ایک احمدی ہزاروں میں نظر آرہا ہو۔کیونکہ احمدیت کا ایک تصور قائم ہے تو جب ایسی مثال نظر آتی ہے تو بہت زیادہ واضح ہو کر اور ابھر کے سامنے آجاتی ہے۔ایسے لوگوں کو جو اس قسم کی حرکتوں میں ملوث ہوں سزا بھی دی جاتی ہے، تعزیر بھی ہوتی ہے لیکن ہر احمدی کو یہ خود سوچنا چاہئے کہ