خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 300 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 300

$2004 300 خطبات مسرور صحیح طور پر استعمال کیا جائے یعنی دین میں مال خرچ ہوں اور دین کی خدمت کے لئے اولا دلگا دی جائے تو پھر اللہ تعالیٰ ان کو بھی دوام بخش دیتا ہے۔روپیہ خرچ ہو جاتا ہے لیکن اس کا نیک اثر باقی رہ جاتا ہے۔اولا د مر جاتی ہے لیکن اس کا ذکر خیر باقی رہ جاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے ماں باپ کا ذکر خیر بھی زندہ رہتا ہے۔پھر فرماتے ہیں کہ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ اور اچھے کام باقیات صالحات کہلاتے ہیں۔خَيْرٌ عِنْدَرَتِكَ ثَوَابًا وَ خَيْرٌ اَمَلا ، اس کے دو معانی ہیں۔ایک یہ کہ نیک کام کا دنیا میں نیک نتیجہ نکلتا ہے اور اس کے متعلق آئندہ بھی اچھی نیتیں ہوتی ہیں گویا سواباً دنیا کے نتیجہ کے متعلق ہے اور املا آخرت کے متعلق ہے۔ثواباً سے مراد خود اس عمل کرنے والے کی ذات کے متعلق بہتر نتائج کا پیدا ہونا ہے اور املا سے مراد آئندہ نسل کے لئے بہترین امیدوں کا ہونا ہے۔مطلب یہ کہ نیک کاموں کا نتیجہ بھی تم کو نیک ملے گا اور تمہاری اولاد کو بھی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ نیک کی اولاد کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔(تفسیر کبیر جلد چهارم صفحه ٧٥٤) لیکن جب انسان نیکیوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔دنیا سے بے رغبتی دکھانے کی کوشش کرتا ہے، اپنے مال کو دین اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو شیطان بھی اپنا کام دکھاتا ہے اور اسے نیکی کے کام کرنے سے روکتا رہتا ہے۔مختلف قسم کے حرص اور لالچ دے کر انسان کو اکساتا رہتا ہے۔اور اگر مومن اللہ کے حضور نہ جھکے، اس سے اس کا فضل نہ مانگے کیونکہ نیکیوں کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ملتی ہے تو شیطان سے بچنے کے لئے کوئی اور راستہ نہیں ہے۔شیطان سے بچنے کا صرف یہی راستہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکو اور اس سے اس کا فضل مانگو اور یہ دعا کرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قدم پر شیطان سے بچاتا رہے کیونکہ شیطان سے بچنے کے لئے اللہ تعالی کی پناہ میں نہ آئے تو پھر تو شیطان اپنے کامیاب حملے کرتا چلا جائے گا ، یہی خیال دل میں ڈالے گا کہ تمہارا مال تمہارا ہے، تمہیں کیا پڑی ہوئی ہے کہ دین کے لئے خرچ کرو۔تمہارا مال