خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 25

$2004 25 خطبات مسرور کرتے ہو تو یقینا اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اس کی تفسیر بیان کی ہے۔فرمایا: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﴾ قرآن کریم میں سورۃ بقرہ میں جہاں پہلا رکوع شروع ہوتا ہے وہاں منتقی کی نسبت فرمایا ہے ﴿وَمِمَّارَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ ﴾ یعنی جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں۔یہ تو پہلے رکوع کا ذکر ہے۔پھر اسی سورۃ میں کئی جگہ انفاق فی سبیل اللہ کی بڑی بڑی تاکیدیں آئی ہیں۔پس تم حقیقی نیکی نہیں پا سکو گے جب تک تم مال سے خرچ نہیں کرو گے۔تم پاسکو مما تُحِبُّونَ ﴾ کے معنے میرے نزدیک مال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ﴾ (العادیات : 9) انسان کو مال بہت پیارا ہے۔پس حقیقی نیکی پانے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز مال میں سے خرچ کرتے رہو۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان یکم او ۸ جولائی ۱۹۰۹ بحواله حقائق الفرقان جلد اول صفحه ٥۰۱،۵۰۰) ایک روایت ہے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے۔کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کے حوالے سے یہ حدیث بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : ”اے آدم کے بیٹے تو اپنا خزانہ میرے پاس جمع کر کے مطمئن ہو جا، نہ آگ لگنے کا خطرہ، نہ پانی میں ڈوبنے کا اندیشہ اور نہ کسی چور کی چوری کا ڈر۔میرے پاس رکھا گیا خزانہ میں پورا تجھے دوں گا اس دن جبکہ تو اس کا سب سے زیادہ محتاج ہوگا“۔(طبرانی) دیکھیں کتنا سستا سودا ہے۔آج اس طرح خزا نے جمع کروانے کا کسی کو ادراک ہے،شعور ہے تو صرف احمدی کو ہے۔وہ جو اللہ تعالیٰ کی اس تعلیم کو سمجھتا ہے کہ ﴿وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَكَ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ ﴾ (البقرہ:۲۷۲) تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اللہ میاں کے دینے کے بھی کیا