خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 284 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 284

$2004 284 خطبات مسرور باتوں میں آجاتے ہیں اور پھر اپنے پیسوں سے بھی محروم ہو جاتے ہیں اور پھر نظام جماعت کو لکھتے ہیں یا مجھے لکھتے ہیں کہ فلاں احمدی کو ہم نے اس طرح اتنی رقم دی تھی وہ سب کچھ کھا گیا اور اب ہم خالی ہاتھ ہو گئے ہیں تو ہماری مدد کی جائے اور رقم ہمیں واپس دلوائی جائے۔تو ایسے لوگوں کو یہ پہلے سوچنا چاہئے کہ واقعی یہ کاروبار اس طرح ہو بھی سکتا تھا کہ نہیں یا صرف کسی نے باتوں میں لگا کے، چکنی چوپڑی سنا کے، بتا کے تمہارے سے پیسے اور رقم بٹور لی۔اگر قناعت کرتے رہتے اور کم منافع پر بھی کماتے رہتے تو کم از کم ایسے حالات تو نہ پیدا ہوتے۔بلکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا سرمایہ کئی گنا زیادہ ہو چکا ہوتا۔اس کے بعد جور تم ضائع ہوگئی منافع تو کیا ملنا تھا رقم بھی گئی ، اصل سرمایہ بھی گیا۔لیکن ساتھ ہی میں ان احمدیوں کو بھی جو اس طرح کے کاروبار کا لالچ دے کر دوسروں کی رقم بٹورتے ہیں اور کاروبار میں بنکوں سے دوسرے شخص کی امانت پر رقم لے کر لگاتے ہیں ، دوسروں کے نام پر کاغذات بناتے ہیں، غلط بیانی کرتے ہیں اور دوسروں کو ان کی جائیداد یا رقم سے محروم کر دیتے ہیں ان کو میں کہتا ہوں، ان کو بھی خوف خدا کرنا چاہیئے۔دنیا کی اتنی حرص کیا ہو گئی ہے۔اگر قناعت کرتے ،اگر امیر سے امیر تر بننے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا خوف پیش نظر رکھتے تو ایسی حرکت کبھی نہ کرتے۔جماعتی خدمات سے بھی محروم نہ ہوتے اور اپنے ماحول میں شرمندگی بھی نہ اٹھاتے۔ہم باوجود اس بات کا علم ہونے کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے یا نصیحت کی ہے، ہر احمدی بچے کو بھی پتہ ہے احمدی ماحول میں اس کا ذکر ہوتا رہتا ہے کہ ہمیشہ مالی معاملات یا دنیاوی معاملات میں اپنے سے اوپر نظر نہ رکھو بلکہ اپنے سے کم تر کو دیکھو یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ اللہ تعالی کی نعمت کو حقیر نہ جانو اور شکر ادا کر سکو۔(مسند احمد جلد ٢ صفحه ٢٥٤ بيروت) پھر بھی ہم دنیا داری میں پڑے ہوئے ہیں۔یعنی اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اپنے سے امیر کو دیکھ کر لوگ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے اور یہی حرص ہوتی ہے کہ اس کا پیسہ بھی ہمارے پاس آ جائے یا کسی کے پاس چاہے تھوڑا پیسہ بھی ہو تو اس کو دیکھ کر بھی بعض لوگوں کی حرص بڑھ جاتی ہے۔تو