خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 278 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 278

خطبات مسرور $2004 278 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ۔ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا۔وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَابِ﴾ (سورة ال عمران آیت نمبر: 15)۔اس کا ترجمہ ہے کہ لوگوں کے لئے طبعا پسند کی جانے والی چیزوں کی یعنی عورتوں کی اور اولاد کی اور ڈھیروں ڈھیر سونے چاندی کی اور امتیازی نشان کے ساتھ دانے ہوئے گھوڑوں کی اور مویشیوں اور کھیتیوں کی محبت خوبصورت کر کے دکھائی گئی ہے۔یہ دنیوی زندگی کا عارضی سامان ہے اور اللہ وہ ہے جس کے پاس بہت بہتر لوٹنے کی جگہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا دار طبعا یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کے پاس خوبصورت اور مالدار عورتیں ہوں ان کی زوجیت میں ، آج کل بھی دیکھ لیں مالدار لوگ یا پیسے والے لوگ یا اس کی سوچ کو رکھنے والے اکثر مالدار گھرانے میں اس لئے شادیاں کرتے ہیں کہ یا تو ان کی طرف سے کچھ مال مل جائے گا یا دونوں طرف کا مال اکٹھا ہو کر ان کے مال میں اضافہ ہوگا۔اس بات کی پرواہ کم کی جاتی ہے کہ جن چار وجوہات کی بنا پر رشتہ کیا جانا چاہئے یعنی مال (جیسا کہ حدیث میں آیا ہے)، خاندان، خوبصورتی یا دینداری۔ان میں سے اللہ تعالیٰ کی نظر میں سب سے زیادہ پسندیدہ دین ہے، اس کی پر واہ کم کی جاتی ہے۔لیکن مال کی طرف سب سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔اور پھر یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ اولاد کو اور اولاد میں بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ زیادہ لڑکے ہوں۔آجکل کے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی ، ترقی یافتہ زمانے میں بھی یہ