خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 274
$2004 274 خطبات مسرور نے اس زمانے میں عرب کے لوگوں کو ایسا ہی پایا تھا۔وہ لوگ نہ صرف روحانی پہلو کی رو سے خطرناک حالت میں تھے بلکہ جسمانی پہلو کے رُو سے بھی ان کی صحت خطرے میں تھی۔(جسمانی پاکیزگی تو یہاں یورپ میں لوگوں میں کم ہی ہے۔سو یہ خدا تعالیٰ کا ان پر اور تمام دنیا پر احسان تھا کہ حفظان صحت کے قواعد مقرر فرمائے۔یہاں تک کہ یہ بھی فرما دیا کہ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا یعنی بے شک کھاؤ پیو، مگر کھانے پینے میں بے جا طور پر زیادتی کیفیت یا کمیت کی مت کرو۔(یعنی مقدار میں اس کی حالت کو دیکھ کے کھاؤ اور زیادتی نہ کرو) افسوس پادری اس بات کو نہیں جانتے کہ جو شخص جسمانی پاکیزگی کی رعایت کو بالکل چھوڑ دیتا ہے وہ رفتہ رفتہ وحشیانہ حالت میں گر کر روحانی پاکیزگی سے بھی بے نصیب رہ جاتا ہے۔مثلاً چند روز دانتوں کا خلال کرنا چھوڑ دو جو ایک ادنی صفائی کے درجے پر ہے تو وہ فضلات جو دانتوں میں پھنسے رہیں گے، ان میں سے مردار کی بو آئے گی۔آخر دانت خراب ہو جائیں گے۔اور ان کا زہریلا اثر معدے پر گر کر معدہ بھی فاسد ہو جائے گا۔خود غور کر کے دیکھو کہ جب دانتوں کے اندر کسی بوٹی کا رگ وریشہ یا کوئی جز پھنسا رہ جاتا ہے اور اسی وقت خلال کے ساتھ نکالا نہیں جاتا تو ایک رات بھی اگر رہ جائے تو سخت بد بواس میں پیدا ہو جاتی ہے۔اور ایسی بدبو آتی ہے جیسے چوہا مرا ہوتا ہے۔پس یہ کیسی نادانی ہے کہ ظاہری اور جسمانی پاکیزگی پر اعتراض کیا جائے اور یہ تعلیم دی جائے کہ تم جسمانی پاکیزگی کی کچھ پرواہ نہ رکھو، نہ خلال کرو، نہ کبھی غسل کر کے بدن پر سے میل اتارو اور نہ پاخانہ پھر کر طہارت کرو اور تمہارے لئے صرف روحانی پاکیزگی کافی ہے۔ہمارے ہی تجارب ہمیں بتلا رہے ہیں کہ ہمیں جیسا کہ روحانی پاکیزگی کی روحانی صحت کے لئے ضرورت ہے ایسا ہی ہمیں جسمانی صحت کے لئے جسمانی پاکیزگی کی ضرورت ہے۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہماری جسمانی پاکیزگی کو ہماری روحانی پاکیزگی میں بہت کچھ دخل ہے۔کیونکہ جب ہم جسمانی پاکیزگی کو چھوڑ کر اس کے بدنتائج یعنی خطر ناک بیماریوں کو بھگتنے لگتے ہیں تو اس وقت ہمارے دینی فرائض میں بھی بہت حرج ہو جاتا ہے اور ہم بیمار ہو کر ایسے نکھے ہو جاتے ہیں کہ کوئی