خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 273
$2004 273 خطبات مسرور بعض دفعہ اس کا نقصان بھی ہو جاتا ہے، پاکستان میں ایک مسجد میں اگر بتی کسی نے لگا دی اور آہستہ آہستہ الماری کو آگ لگ گئی نقصان بھی ہوا۔ایک تو یہ احتیاط ہونی چاہئے کہ جب موجود ہوں تب ہی لگے۔دوسرے بعض اگر بتیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں اتنی تیز خوشبو ہوتی ہے کہ دوسروں کے لئے بجائے آرام کے تکلیف کا باعث بن جاتی ہیں۔اس سے اکثر کو سر در دشروع ہو جاتی ہے۔تو ایسی چیز لگانی چاہئے یا دھونی دینی چاہئے جو ذرا ہلکی ہو۔ایک حدیث میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو اس بات کی تحریک کرتے رہتے تھے کہ خاص طور پر اجتماعات کے دنوں میں جب لوگ اکٹھے ہور ہے ہوں مسجدوں کی صفائی کا خیال رکھا کریں اور ان میں خوشبو جلایا کریں تا کہ ہوا صاف ہو جائے۔(مشکواۃ۔کتاب الصلوۃ) ایک اور روایت ہے۔آپ ہمیشہ صحابہ کو نصیحت کرتے رہتے تھے کہ اجتماع کے موقع پر بد بو دار چیزیں کھا کر مسجد میں نہ آیا کریں۔جب نمازوں کے لئے مسجد میں آتے ہیں تو پیاز اور لہسن وغیرہ چیزیں کھا کر نہ آئیں۔(بخاری۔کتاب الاطعمه باب يكره من الثوم والبقول) اور اس کے ساتھ ہی بعض دفعہ جرا ہیں بھی کئی دنوں کی گندی ہوتی ہیں ان سے بھی بو آتی ہے وہ بھی پہن کے نہیں آنا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ یعنی ہر ایک پلیدی سے جدا رہ۔یہ احکام اسی لئے ہیں تا کہ انسان حفظان صحت کے اسباب کی رعایت رکھ کر اپنے تیں جسمانی بلاؤں سے بچاوے (یعنی اپنے آپ کو جسمانی بلاؤں سے بچائے ) عیسائیوں کا یہ اعتراض ہے کہ یہ کیسے احکام ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتے۔کہ قرآن کہتا ہے کہ تم غسل کر کے اپنے بدنوں کو پاک رکھو اور مسواک کرو اور خلال کرو اور ہر ایک جسمانی پلیدی سے اپنے تئیں اور اپنے گھر کو بچاؤ۔اور بد بوؤں سے دور ر ہو اور مردار اور گندی چیزوں کو مت کھاؤ اس کا جواب یہی ہے کہ قرآن