خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 269
269 $2004 خطبات مسرور تھا کہ حضور ابھی یہاں سے گزر کر گئے ہیں۔( تاريخ الكبير للبخاری نمبر ٤٢٩٧) حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی جمعے کے دن غسل کرے اور جہاں تک صفائی کر سکتا ہے صفائی کرے اور تیل لگائے اور اپنے گھر میں موجود خوشبو میں سے کچھ لگائے، پھر نماز کے لئے نکلے تو اس جمعے سے لے کر اگلے جمعے تک اس کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(بخاری۔کتاب الصلواة باب الدهن للجمعة) تو یہاں اس سے یہ مراد ہے کہ نیت یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ خوشبولگا کر مسجد میں جاؤ تا کہ اس کے بندوں کو ، ساتھ بیٹھے ہووں کو تکلیف نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کو بھی خوشبو اور صفائی پسند ہے۔یہ نہیں کہ اس حکم کے مطابق تیار ہو کر جمعہ پڑھ لیا اور سارا ہفتہ اس کے بندوں کو تکلیف دیتے رہے تو گناہ بخشے گئے۔عمل کا دارومدار نیتوں پر ہے، اس حدیث کو بھی سامنے رکھنا ہو گا نیت نیک ہوتب تو اب بھی ملتا ہے۔دانتوں کی صفائی کے بارے میں روایت ہے، حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مسواک کرنے سے منہ کی صفائی ہوتی ہے۔خدا کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ آنکھ کی روشنی بڑھتی ہے۔(بخاری۔كتاب الصوم باب سواك الرطب و اليابس للصائم) پھر اسی بارے میں دوسری روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت کی یا لوگوں کی تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو میں ان کو یہ حکم دیتا کہ ہر نماز پر مسواک کیا کریں۔(بخاری کتاب الصلوة بالسواك يوم الجمعة) اب بعض لوگوں کے منہ سے بو آتی ہے۔ان کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے ، لوگوں کی تکلیف کا احساس ہونا چاہئے۔حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو بیدار ہوتے تھے تو مسواک سے اپنا منہ صاف کیا کرتے تھے۔آج کل ڈاکٹر اپنی تحقیق کے