خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 268
$2004 268 خطبات مسرور دوسروں سے بالا ہیں اور غریب آدمی کے وقت اور عزت کی کچھ پرواہ نہیں ہوتی۔حضرت میاں صاحب جب اپنے علاقے میں افسر بن کر گئے تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور نصائح کے علاوہ ان کو ایک یہ بھی نصیحت کی تھی کہ تمہارے گھر کا کوئی قالین کا ٹکڑا یا ڈرائینگ روم کا صوفہ کسی غریب کو تمہارے گھر میں قدم رکھنے یا بیٹھنے سے نہ رو کے یا روک نہ بنے۔بڑی پر حکمت نصیحت ہے۔ایک تو یہ کہ غریب بھی تمہارے گھر میں بے جھجک آسکے، کوئی روک نہ ہو۔دوسرےاس کو بھی وہی عزت دو جو کسی امیر کو دو۔تو حضرت میاں صاحب نے ہمیشہ غریبوں کا بہت خیال رکھا اور اس نصیحت پر عمل کیا۔ہمارے آج کل کے افسروں کو بھی اس نصیحت کو پلے باندھنا چاہئے۔یہ نہیں کہ سفر کی وجہ سے کسی غریب کے کپڑے میلے ہیں تو اس کے صوفے پہ بیٹھنے سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہو۔پھر صفائی کے ساتھ ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشبولگانے کو بھی بہت پسند فرمایا ہے اور اس تحفے کو بھی بڑا پسند کیا کرتے تھے۔ایک روایت میں ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں کوئی دوست بطور تحفہ خوشبودے تو اسے قبول کرو اور اسے استعمال کرو۔(مسند الامام اعظم كتاب الارب صفحه (۲۱۱ روایت آتی ہے کہ آپ کے جسم میں سے تو ہر وقت خوشبو آتی رہتی تھی۔جیسے حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ایک دفعہ میرے گال پر ہاتھ پھیرا تو آپ کے ہاتھ سے میں نے ایسی اعلیٰ درجہ کی خوشبو محسوس کی جیسے وہ ابھی عطار کی صندوقچی سے باہر نکلا ہو۔(مسلم کتاب الفضائل باب طيب رائحة النبى الله۔یعنی جو شخص عطر بناتا ہے اس کا جوڈ بہ جس میں عطر پڑے ہوتے ہیں جس طرح اس میں سے ہاتھ نکالا ہو۔حضرت جابر ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس راستے سے گزرتے ، اس پر اگر کوئی آپ کے پیچھے جاتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخصوص خوشبو کی وجہ سے اسے پتہ چل جاتا