خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 257
$2004 257 خطبات مسرور کوششیں تو اس غرض سے کی گئیں کہ یہ تخم جو بویا گیا ہے اندر ہی اندر نابود ہو جائے اور صفحہ ہستی پر اس کا نام ونشان نہ رہے مگر وہ تم بڑھا اور پھولا اور ایک درخت بنا اور اس کی شاخیں دور دور چلی گئیں۔اور اب وہ درخت اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہزار ہا پرندے اس پر آرام کر رہے ہیں۔اور اب تو کروڑہا پرندے اس مسیح محمدی کے درخت پر بیٹھے ہوئے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ براہین احمدیہ میں پیشگوئی ہے يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَ اللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ یعنی مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ نور خدا کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر خدا اپنے نور کو پورا کرے گا اگر چہ منکر لوگ کراہت ہی کریں۔یہ اس وقت کی پیشگوئی ہے جب کہ کوئی مخالف نہ تھا۔بلکہ کوئی میرے نام سے بھی واقف نہ تھا پھر بعد اس کے حسب بیان پیشگوئی دنیا میں عزت کے ساتھ میری شہرت ہوئی اور ہزاروں نے مجھے قبول کیا تب اس قدر مخالفت ہوئی کہ مکہ معظمہ سے اہل مکہ کے پاس خلاف واقعہ باتیں بیان کر کے میرے لئے کفر کے فتوے منگوائے گئے۔اور میری تکفیر کا دنیا میں ایک شور ڈالا گیا قتل کے فتوے دیئے گئے حکام کو اکسایا گیا، عام لوگوں کو مجھ سے اور میری جماعت سے بے زار کیا گیا۔غرض ہر ایک طرف سے میرے نابود کرنے کے لئے کوشش کی گئی مگر خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق یہ تمام مولوی اور ان کے ہم جنس اپنی کوششوں میں نامراد اور نا کام رہے، افسوس کس قدر مخالف اندھے ہیں ان پیشگوئیوں کی عظمت کو نہیں دیکھتے کہ کس زمانے کی ہیں اور کس شوکت اور قدرت کے ساتھ پوری ہوئی ہیں کیا بجز خدا تعالیٰ کے کسی اور کا کام ہے، اگر ہے تو اس کی نظیر پیش کرو نہیں سوچتے کہ اگر یہ انسان کا کاروبار ہوتا اور خدا کی مرضی کے مخالف ہوتا تو وہ اپنی کوششوں میں نامراد نہ رہتے۔کس نے ان کو نا مرا درکھا، اسی خدا نے جو میرے ساتھ ہے۔(حقيقة الوحى صفحه ٢٤٢،٢٤١ - روحانی خزائن جلد (۲۲) اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین