خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 251
$2004 251 خطبات مسرور جہاں سے ایک خطبہ بھی نشر ہوا تھا یہاں ہماری جماعت کا ایک ریڈیو سٹیشن بھی ہے۔جو تقریباً 70 80 کلومیٹر کی رینج میں سنا جاتا ہے، یہاں جمعہ پر بھی کافی حاضری یعنی ۴، ۵ ہزار کے قریب حاضری ہوگئی تھی ، احباب و خواتین آگئے تھے، اس جگہ کی 90% آبادی مسلمانوں کی ہے۔یہ سب 66 ریڈیو کے پروگرام پسند کرتے ہیں، بلکہ مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے ریڈیو پر جو نظمیں نشر ہوتی ہیں، وہ بھی بہت مقبول ہیں۔اور غیر احمدی بھی یہ نظم اکثر پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ ”میرا نام پوچھوتو میں احمدی ہوں۔“ تیسرا ملک بین تھا جہاں ہم بائی ایئر گئے تھے چیفوں کے نمائندے اور حکومت کے نمائندے وزیر اور تھوڑی دیر بعد ان کے وزیر خارجہ بھی آگئے انہوں نے کہا کہ میں میٹنگ میں کافی دور گیا ہوا تھا اور ٹریفک میں پھنس گیا (وہ ٹریفک کافی تنگ کرنے والا ہے، وزیروں کو بھی نہیں چھوڑتے ) یہاں بھی ان کے کیپیٹل کوتو نو وو میں بڑی خوبصورت نئی مسجد بنی ہے اس کا افتتاح ہوا اور گزشتہ جمعہ یہیں پڑھا گیا اور آپ نے سنا بھی۔کو تو نو دو کے قریب 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک جگہ ہے جہاں ان کا پہلے لیپیٹل ہوا کرتا تھا اب انہوں نے ادھر شفٹ کیا ہے۔یہاں ایک مسجد کا سنگ بنیا درکھا ہے پہلے مسجد چھوٹی سی ہے اب انشاءاللہ وسیع مسجد بنے گی۔پارا کو یہاں کا دوسرا بڑا شہر ہے وہاں جاتے ہوئے راستے میں ایک جگہ الا ڈا ہے وہاں کے چیف احمدی ہو چکے ہیں اور یہاں جلسہ پر آ بھی چکے ہیں ( آپ ان کو پہچانتے بھی ہوں گے انہوں نے جھالروں والا تاج پہنا ہوتا تھا ) انہوں نے وہاں بھی کافی لوگ اکٹھے کئے ہوئے تھے یہ لوگ عیسائی تھے، چیف بھی عیسائی تھے، چیف شروع میں بعض وجوہات کی وجہ سے احمدیت کو چھپاتے رہے لیکن اب وہ کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں بلکہ وہاں مجمع میں اپنی تقریر میں بھی انہوں نے کہا کہ اگر اپنی دنیا و آخرت سنوارنی ہے اور نجات چاہتے ہو تو احمدیت کو قبول کر لو۔یہی حقیقی اسلام ہے، عیسائی بھی اور مسلمان بھی ، وہاں کافی اچھی گیدرنگ (Gathering تھی۔اب بھی ان کو اس علاقے میں کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں ثابت قدم بھی رکھے اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔پارا کو جب ہم پہنچے ہیں تو وہاں کے میئرز اور گورنر )