خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 245 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 245

$2004 245 خطبات مسرور دورے پر جانے سے پہلے سفر کے ہر لحاظ سے کامیاب ہونے کے لئے انہیں دعا کی تحریک کی تھی تو احباب جماعت کی مقبول دعاؤں کے نظارے ہمیں اپنے سفر کے دوران ہر قدم پر نظر آتے رہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وہ بارش برسی ہے جو انسانی تصور سے باہر ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود سے وعدوں اور خوشخبریوں کے مطابق یہ کامیابیاں تو ہونی تھیں۔لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے یہ نظارے اس نے ہماری زندگیوں میں ہمیں دکھائے۔دورے سے پہلے کئی لوگوں نے مبشر خوا میں بھی دیکھی تھیں بعض کو تو پتہ تھا کہ افریقہ کا دورہ ہے۔دعا کر رہے تھے اس دوران اچھی خواہیں آئیں لیکن بعضوں کو علم بھی نہیں تھا، تو بہر حال اس سے میری تسلی ہو گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ یہ سفر ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے گا، اس پر ہم اللہ تعالیٰ کا جس قدر بھی شکر ادا کریں کم ہے الحمد للہ۔یہاں سے روانہ ہو کر جب ہم اکرا ایئر پورٹ پر پہنچے ہیں، جہاز وہاں آکر ر کا بلکہ جہاز رن وے پر اترا تو اس وقت ہی نظر آ گیا تھا کہ لوگوں کا ایک ہجوم ہے اور سفید رومال لہرا رہے ہیں، جب میں جہاز سے اترنے لگا تو جہاز کا پائلٹ بھی بڑا ا یکسا ئیٹڈ میرے پاس آیا، برٹش ائرویز کا جہاز تھا، یہ نہیں پتہ کہ اسے پہلے علم تھا یا اس نے خود اندازہ لگایا اور آ کے کہنے لگا تمہارے لوگ تمہارے استقبال کے لئے آئے ہوئے ہیں۔اور اتنا غیر معمولی رش تھا اور جوش تھا کہ ہر ایک کو نظر آرہا تھا۔مسافر بھی کھڑکیوں سے جھانک جھانک کے دیکھ رہے تھے، اترنے سے پہلے۔گھانا جماعت نے بھی ماشاء اللہ دوروں ، ملاقاتوں ،میٹنگوں کے بھر پور پروگرام بنائے ہوئے تھے، اس کے بارے میں ایم ٹی اے میں کچھ خبریں پتہ لگتی رہی ہیں۔بہر حال مختصراً بعض جگہوں کے بارے میں جہاں میں رہا ہوں یا جن جگہوں کو میں جانتا ہوں وہاں کیا کیا تبدیلیاں دیکھیں، اس بارے میں مختصر بیان کرتا ہوں۔وہاں پہنچنے کے اگلے دن ہم نے دو سکولوں، ایک ہسپتال اور جامعہ احمد یہ گھانا کا معائنہ کیا، اس دن تقریباً دو تین سو کلومیٹر کا سفر ہوا ہو گا۔جامعہ احمدیہ تو وہاں نیا کھلا ہے یعنی میرے وہاں سے