خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 238
$2004 238 خطبات مسرور کچھ حصہ بھی یاد نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔(ترمذی کتاب فضائل القرآن باب من قرأ حرفاً) پھر ایک لمبی روایت ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہ یقیناً قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعوت ہے اس کی دعوت سے جس قدر ہو سکے فائدہ اٹھاؤ۔یقیناً قرآن اللہ کی رسی اور نورمبین ہے اور نفع بخش شفا ہے۔اور حفاظت کا ذریعہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اس کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے۔اور نجات ہے اس کے لئے جو اس کی پیروی کرتا ہے۔ایسا شخص راستی سے نہیں ہلتا کہ بعد میں اسے معذرت کرنی پڑے اور نہ وہ کج روی اختیار کرتا ہے تا اسے درست کرنا پڑے۔قرآن کریم کے عجائبات ختم نہیں ہوتے ، پڑھنے والا اس کو بار بار پڑھنے سے اکتا تا نہیں پس تم اس کو پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی تلاوت کے نتیجہ میں ہر حرف پر دس نیکیوں کا ثواب دیتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ السم ایک حرف ہے بلکہ ان میں سے الف پر دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور لام پر بھی دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور میم پر بھی دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔(سنن الدارمی فضائل القرآن) اس حدیث میں قرآن کریم کی بے شمار خوبیاں گنوائی گئی ہیں بشرطیکہ انسان صاف دل ہو کر اس کو پڑھے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا روحانی مائدہ ہے کہ اس سے تم جتنا زیادہ فائدہ اٹھاؤ گے روحانیت میں بڑھتے چلے جاؤ گے۔تمہارے ایمانوں کی حفاظت اس میں ہے،شیطان سے بچاؤ کی تدبیر اس میں ہے۔ایک جماعت اور نظام کی پابندی کرتے ہوئے ،سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوطی قائم کرنے کا سبق اس میں ہے۔برائیوں سے بچنے اور نیکیوں پر قائم رہنے کے سبق اس میں ہیں۔اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے راستے اس میں بتائے گئے ہیں۔پھر ہر لفظ پڑھنے کا ثواب ہے تو دیکھیں کتنی بے شمار برکات قرآن کریم کے پڑھنے سے حاصل ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : یقینا سمجھو کہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ہم بغیر آنکھوں کے دیکھ سکیں یا بغیر کا نوں کے سن سکیں یا بغیر زبان کے بول سکیں اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ بغیر قرآن کے اس پیارے محبوب کا منہ دیکھ سکیں۔(اسلامی اصول کی فلاسفی صفحه نمبر ۱۲۳)