خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 236
236 $2004 خطبات مسرور اللہ تعالیٰ کا محبوب بننا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت ضروری ہے اور آپ کی اطاعت میں یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کے غلام کامل کی جماعت میں شامل ہوا جائے۔اور پھر جس طرح وہ حکم اور عدل کے طور پر ہمیں اسلام کی صحیح تعلیم بتا ئیں اس پر عمل کیا جائے۔تو اس لحاظ سے شکر کے ساتھ ساتھ ہم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی عائد ہو جاتی ہے کہ ہم اپنے اندر نیک تبدیلیاں پیدا کریں اور اسلام کی صحیح تعلیم کو اپنے اوپر لاگوکریں۔ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سے کس قسم کی پاک تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: پس تمہاری بیعت کا اقرار کر نا زبان تک محدود رہا تو یہ بیعت کچھ فائدہ نہ پہنچائے گی۔چاہئے کہ تمہارے اعمال تمہارے احمدی ہونے پر گواہی دیں۔میں ہرگز یہ بات نہیں مان سکتا کہ خدا تعالیٰ کا عذاب اس شخص پر وارد ہو جس کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہو۔خدا تعالیٰ اسے ذلیل نہیں کرتا جو اس کی راہ میں ذلت اور عاجزی اختیار کرے۔یہ سچی اور صحیح بات ہے۔پس راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو۔کوٹھڑی کے دروازے بند کر کے تنہائی میں دعا کرو کہ تم پر رحم کیا جائے۔اپنا معاملہ صاف رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا فضل تمہارے شامل حال ہو۔جو کام کر ونفسانی غرض سے الگ ہوکر کروتا خدا تعالیٰ کے حضور اجر پاؤ۔(ملفوظات جلد ۵ صفحه ۲۷۲۔الحکم ۱۰ ستمبر ١٩٠٧ء) پھر آپ فرماتے ہیں: یا درکھو انری بیعت سے کچھ نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ اس رسم سے راضی نہیں ہوتا جب تک کہ حقیقی بیعت کے مفہوم کو ادا نہ کرے۔(اگر بیعت کے مفہوم کو ادا نہیں کرتے ) اس وقت تک یہ بیعت، بیعت نہیں نری رسم ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ بیعت کے حقیقی منشاء کو پورا کرنے کی کوشش کرو۔یعنی تقویٰ اختیار کرو۔قرآن شریف کو خوب غور سے پڑھو اور اس پر تدبر کرو اور پھر (اس پر) عمل کرو کیونکہ سنت اللہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نرے اقوال اور باتوں سے خوش نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حاصل کرنے کے واسطے ضروری ہے کہ اس کے احکام کی پیروی کی جاوے۔اور اس کے