خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 234
خطبات مسرور $2004 234 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيْنًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَّا تَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيْمَ حَنِيْفًا وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيْمَ خَلِيَّلا (سورة النساء ١٢٢)۔اس آیت کا ترجمہ یہ ہے اور دین میں اس سے بہتر کون ہوسکتا ہے جو اپنی تمام تر توجہ اللہ کی خاطر وقف کر دے اور جو احسان کرنے والا ہو اور اس نے ابراہیم حنیف کی ملت کی پیروی کی ہو اور اللہ نے ابراہیم کو دوست بنالیا تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔جس کی وجہ سے آج ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور غلام کی جماعت میں شامل ہیں۔آج ہمیں اسلام کی صحیح تعلیم کی وضاحت ہوسکتی ہے، صحیح تعلیم مل سکتی ہے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی مل سکتی ہے۔آج اگر ہم دنیا میں رائج بہت سی برائیوں اور بدعتوں سے اپنے آپ کو پاک کر سکتے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہو کر ہی کر سکتے ہیں۔اور یہی خدا کی منشاء ہے اور یہی اس کی مرضی ہے۔اور اس کی خبر آج سے 14 سو سال پہلے ہمیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دی تھی۔اور ہمیں بتادیا گیا تھا کہ اسلام کی تعلیم میں بعض بدعات اور بگاڑ داخل ہو جائیں گے جنہیں مسیح محمدی ہی آکر درست کرے گا اور صحیح راستے پر چلائے گا۔چنانچہ آپ دیکھ لیں دنیا کے ہر ملک میں مسلمانوں میں بعض ایسی روایات یا بدعات داخل ہو چکی ہیں جن کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل نہ کرتے ہوئے اس زمانہ کے