خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 209 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 209

$2004 209 مسرور بہر حال ایک جگہ پر کھڑے ہو جانا دنیا کی نظر میں تو یہی اعلیٰ معیار ہے۔لیکن کامل ایمان والوں کی نظر میں یہ اعلیٰ معیار نہیں بلکہ اس سے آگے بھی اللہ تعالیٰ کی حسین تعلیم کی روشنیاں ہیں۔اور عدل سے اگلا قدم احسان کا قدم ہے۔لیکن یاد رکھو یہ قدم تم اس وقت اٹھانے کے قابل ہو گے جب تمہارے اندر اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا ہوگی، جب تم میں بنی نوع انسان سے انتہاء کی محبت پیدا ہو گی۔اور یہ باتیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا فضل یقیناً ان پر ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے دوست ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے پیارے ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ہے۔ہر موقع پر دوست اور محبت کرنے والے کا حق ادا کرنے کے لئے وہ اس کے یعنی اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے احسان کرنا بھی ایک بہت بڑا احکم اور خلق ہے۔اب اس آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مومن کی ایک بہت بڑی نشانی بتائی ہے کہ وہ احسان کرنے والا ہو ، اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے بہت محبت کرتا ہے۔لیکن فرمایا کہ یہ احسان کرنے کا خلق یونہی پیدا نہیں ہو جاتا۔اس کے لئے تقویٰ اختیار کرنے کی ضرورت ہے خالصتا اللہ تعالیٰ کا ہونے کی ضرورت ہے۔یعنی تقویٰ کی اعلیٰ سے اعلیٰ منازل طے کرنے کی ضرورت ہے۔اس وقت میں ان منازل کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تقویٰ کی تین منازل کا ذکر کیا ہے۔فرمایا کہ جب تم اس حد تک تقویٰ اختیار کر لو تو تم پھر احسان کرنے والوں میں شامل ہو جاؤ گے۔یا درکھیں ہر مومن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہو، اللہ تعالیٰ اس کا دوست اور ولی ہو۔اللہ تعالیٰ ہر مشکل سے اس کو نکالے۔تو جب تم اپنے تقویٰ کے معیار کو اس حد تک لے جاؤ گے کہ احسان کرنے والے بن سکو، پھر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب بن جاؤ گے اور جو اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جائے اس کو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچاسکتی۔