خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 203
$2004 203 خطبات مسرور رائے دیں اور بیٹھ جائیں۔اگر آپ کی رائے میں وزن ہوگا ، لوگوں کو پسند آئے گی خود اس کے حق میں عمومی رائے بن جائے گی۔اگر نہیں تو آپ کا کام صرف نیک نیتی سے جو بھی ذہن میں بات آئی اس کا اظہار کرنا تھا وہ کر دیا۔اور اس کے لئے یہ بھی ہے کہ دوسروں کی رائے کو غور سے سنیں۔آپ نے ایک رائے اپنے ذہن میں بنائی ہے ہو سکتا ہے کہ جب دوسرا اس سے پہلے آکے اپنی رائے دے دے تو آپ اپنی رائے چھوڑ دیں۔پھر یہ ہے کہ کسی کی خاطر رائے نہ دیں۔کسی رائے سے صرف اس لئے اتفاق نہ کریں کہ یہ میرے دوست یا عزیز نے رائے دی ہے یا میری جماعت کے فلاں فرد نے سیہ رائے دی ہے۔آزادانہ رائے ہونی چاہئے ، خالصتا اللہ تعالیٰ کے لئے ہونی چاہئے اور پھر یہ ہے کہ کسی حکمت کے تحت کبھی کوئی رائے نہ دیں بلکہ یہ مد نظر ہو کہ جو سوال در پیش ہے اس کے لئے کون سی بات مفید ہے، یہ نہیں کہ فلاں حکمت حاصل کرنی ہے۔پھر یہ ہے کہ سچی بات تسلیم کرنے سے پر ہیز نہ کریں، پہلے بھی میں نے بتایا ہے خواہ اسے کوئی بھی پیش کر رہا ہو، بعض لوگ صرف اس لئے مخالفت کر دیتے ہیں بعض باتوں کی کہ پیش کرنے والا کم پڑھا لکھا یا دیہاتی مجلس کا آیا ہوا ہے۔پھر یہ ہے کہ رائے قائم کرنے کے بارے میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔اپنی رائے کو کبھی اس طرح نہ سمجھیں کہ یہ بہت مضبوط ہے اور کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔اس وجہ سے اس پر اصرار کرتے رہیں۔پھر یہ ہے کہ رائے دیتے وقت احساسات کی پیروی نہیں ہونی چاہئے۔مجھے یہ احساس ہے، یہ احساس ہے، یہ احساس ہے، بلکہ واقعات کو مدنظر رکھنا چاہئے ، تائیدی طور پر یہ احساسات تو پیش کئے جا سکتے ہیں لیکن عمومی طور پر جب رائے دے رہے ہوں تو واقعات پیش ہونے چاہئیں، معین اعداد و شمار پیش ہونے چاہئیں، جس کی روشنی میں دوسرا بھی رائے قائم کر سکے۔اور وہ بات کریں جس میں دینی فائدہ ہو۔اصل مقصد تو دین کی ترقی ہے نہ کہ اپنی بڑائی یا علم کا اظہار کرنا ہے۔اس لئے ہر مشورہ اسی سوچ کے ساتھ ہونا چاہئے۔پھر یہ ہے کہ ایسی رائے کو سوچ سمجھ کے آنا چاہئے،