خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 188
$2004 188 مسرور یعنی جن لوگوں کو اس کام پر مقرر کیا گیا ہے جو فیصلے کریں اگر وہ عدل وانصاف کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کریں گے تو یہ بھی ان کی طرف سے ایک صدقہ ہے تو جہاں یہ دل کی تسلی کی بات ہے کہ ان کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا وہاں فکر انگیز بھی ہے،فکر ڈالنے والی بات بھی ہے کہ کہیں غلط فیصلوں کی سزا نہ ہو جائے کہیں پو چھ کچھ نہ ہو جائے۔ایک اور روایت ہے عبداللہ بن موہب روایت کرتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو قاضی بنا کر بھیجتے ہوئے کہا، جاؤ لوگوں میں ان کے معاملات کے فیصلے کرو۔انہوں نے کہا اے امیر المومنین کیا آپ مجھے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے معاف نہیں رکھ سکتے اس پر حضرت عثمان نے کہا تم قضا کے عہدے کو نا پسند کیوں کرتے ہو جبکہ آپ کے والد فیصلے کیا کرتے تھے۔حضرت ابن عمرؓ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مَنْ كَانَ فَاضِيَا فَقَضَا بِالْعَدْلِ یعنی جو قضا کے عہدے پر فائز ہو۔اسے چاہئے عدل کے ساتھ فیصلے کرے اور مناسب یہ ہے کہ اس عہدے سے اس طرح نکلے کہ اس پر کوئی الزام نہ ہو۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو سننے کے بعد میں اس عہدے کی خواہش نہیں رکھتا۔صل الله (ترمذى كتاب الاحكام باب ما جاء عن رسول الله له في القاضي) ان کو اللہ کا خوف تھا کہیں ایسا فیصلہ نہ ہو جائے کہ جس پر الزام ہو۔پھر ایک روایت ہے۔حسن روایت کرتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد، معتقل بن یسار کی مرض الموت میں ان کی عیادت کو گئے انہوں نے کہا میں تمہیں ایسی حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں ابھی زندہ رہوں گا تو میں یہ حدیث تمہیں نہ سنا تا۔میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کوئی بندہ جس کے سپر د اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کی دیکھ بھال فرض کی ہوا گر وہ اس حال میں مرتا ہے کہ اس نے اپنی رعیت کی نگہبانی کرنے میں عدل سے کام نہ لیا ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا۔(سنن الدارمی کتاب الرقائق باب فى العدل بين الرعية